کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 182
’’إذا کان یوم القیامۃ،جمع اللّٰہ تبارک وتعالی نسم الذین ماتوا فی الفترۃ والمعتوہ والأصمّ والأبکم، والشیوخ الذین جاء الإسلام وقد خرفوا، ثم أرسل رسولا أن ادخلوا النار، فیقولون: کیف ولم یأتنا رسول، وایم اللّٰہ لو دخلوہا لکانت علیہم بردا وسلاما، ثم یرسل إلیہم، فیطیعہ من کان یرید أن یطیعہ قبل؛ قال أبوہریرۃ: اقرء وا إن شئتم {وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا} (الاسرائ: 15)۔‘‘ [1] ’’جب قیامت والا دن ہو گا اللہ تبارک و تعالیٰ ارواح کوجمع کرے گا۔ وہ لوگ جو زمانہ فترت میں فوت ہو گئے اور فاتر العقل، بہرا، گونگا اور وہ بوڑھے جن کے پاس اسلام اس حالت میں آیا کہ وہ سٹھیا گئے تھے پھر کوئی رسول ان کی طرف بھیجے گا، کہے گا: آگ میں داخل ہو جائو۔ تو وہ کہیں گے ہم آگ میں کیسے داخل ہوں حالانکہ ہمارے پاس کوئی رسول آیا ہی نہیں۔ اللہ کی قسم! اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو وہ ان پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جاتی۔ پھر دوبارہ ان کی طرف رسول بھیجے گا جو اس سے پہلے اطاعت کا ارادہ رکھتا ہو گا وہ اطاعت کرے گا۔ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو قرآن پڑھ لو: ’’اورہم عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں۔‘‘ یہ روایت اگرچہ موقوف ہے لیکن ایسی خبر رائے اور قیاس سے نہیں دی جا سکتی لہٰذاحکماًمرفوع ہے اور اوپر ذکر کردہ حدیث کی قوی شاہد ہے۔ واللہ اعلم! امام قتادہ سے مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر یوں مروی ہے: ’’إن اللّیہ تبارک وتعالی لیس یعذب أحداحتی یسبق إلیہ من اللّٰہ خبرا، أو یأتیہ من اللّٰہ بیَّنۃ، ولیس معذّبا أحداإلا بذنبہ۔‘‘[2] ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اتنی دیر تک عذاب نہیں دیتا یہاں تک کہ اس کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی خبر یا واضح دلیل نہ آ جائے اور کسی کو اس کے گناہ کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔‘‘ امام نووی رحمہ اللہ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 15 کے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’وإذا کان لا یعذب العاقل لکونہ لم تبلغہ الدعوۃ فلأن لا یعذب غیر العاقل [1] ) جامع البیان للطبری: 14/526،527۔ بتحقیق الدکتور عبداللّٰہ بن عبدالمحسن الترکی، تفسیر عبدالرزاق: (1541)۔ [2] ) تفسیر طبری: 14/526۔