کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 180
(وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُمْ مَا يَتَّقُونَ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ) (التوبۃ: 115) ’’اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ کسی قوم کو اس کے بعد گمراہ کر دے کہ انھیں ہدایت دے چکا ہو ، یہاں تک کہ ان کے لیے وہ چیزیں واضح کر دے جن سے وہ بچیں۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘ امام المحدثین والفقہاء امام بخاری رحمہ اللہ نے قرآن حکیم کی اس آیت کریمہ کو ’’تاب استتاب المرتدین والمعاندین وقتالم‘‘ کے چھٹے باب ’’باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیہم‘‘ میں ذکر کیا اور ثابت کیا کہ خوارج اور ملحدین کے ساتھ قتال ان پر حجت قائم کرنے کے بعد ہے۔ علامہ عینی اس کی شرح میں رقمطراز ہیں: ’’بشیر البخاری بذلک إلی أنہ لا یجب قتال خارجی ولا غیرہ إلا بعد الاعذار علیہ ودعوتہ إلی الحق وتبیین ما التبس علیہ فإن أبی عن الرجوع إلی الحق وجب قتالہ بدلیل الآیۃ التی ذکرہا۔‘‘[1] ’’امام بخاری اس باب میں اشارہ دے رہے ہیں کہ خارجی وغیرہ سے اتنی دیر تک قتال واجب نہیں ہوتا جب تک اس کے عذر ختم نہ کر دیے جائیں اور حق کی طرف اس کو دعوت دی جائے اور جو چیز اس پر خلط ملط ہو چکی ہے اسے کھل کر واضح نہ کر دیا جائے پھر اگر حق کی طرف پلٹنے سے انکار کرتا ہے تو اس کے ساتھ قتال واجب ہے اس آیت کی رو سے جسے امام بخاری نے ذکر کیا ہے۔‘‘ (نیز دیکھیں: التوضیح لابن ملقن: 31/554) اور اس مفہوم کی بے شمار آیات ہیں: کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے پوچھے گا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں آئے تھے جس میں وہ اثبات میں جواب دیں گے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ارسال رسل اور انزال کتب کے بغیر وہ کسی کو عذاب نہ دے گا تاہم اگر قوم یا کسی فرد تک اس کا پیغام نہیں پہنچا تو قیامت والے دن کسی کو عذاب نہ دے گا تاہم اگر قوم یا کسی فرد تک اس کا پیغام نہیں پہنچا تو قیامت والے دن کسی کے ساتھ ظلم نہ ہو گا، اسی طرح بہرا، پاگل، فاتر العقل اور زمانہ فترت یعنی دو نبیوں کے درمیانی زمانہ میں فوت ہونے والوں کا مسئلہ ہے ان کی بابت بعض [1] ) عمد ۃ القاری للعینی : 24/84۔