کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 178
یأتیہ رسول من عند اللّٰہ عزوجل فصح بذلک أن من لم یبلغہ الإسلام أصلاً فإنہ لا عذاب علیہ… وکذلک من لم یبلغہ الباب من واجبات الدین فإنہ معذور لا ملامۃ علیہ۔‘‘[1] ’’اللہ عزت و جلال والے نے فرمایا: ’’یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈراؤں اور اسے بھی جس تک یہ پہنچے۔ ‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے کھول کر بیان کر دیا کہ تنبیہ و الٹی میٹیم اور تنبیہ و ڈراوا اسے ہی لازم ہوتا ہے جس تک پہنچے۔ اور جسے تنبیہ اور وارننگ ملی ہی نہ ہو تو اسے لازم نہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اتنی دیر تک عذاب نہیں دیتا یہاں تک کہ اس کے پاس اللہ کی طرف سے رسول آجائے ، یہ بات صحیح و درست ہے کہ جس کے پاس اسلام پہنچا ہی نہیں اس پر کوئی عذاب نہیں۔ اسی طرح وہ آدمی جس تک دین کے واجبات میں سے کوئی بات نہ پہنچی ہو تو وہ معذور ہے اس پر کوئی ملامت نہیں۔‘‘ امام ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ إن اللّٰہ لا یعذب أحدًا إلا بعد قیام الحجۃ کما قال تعالیٰ: {وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا}(الاسرائ:55) وقال تعالیٰ: {رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ النَّاسَ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃً بَعْدَ الرُّسُل} (النسائ:165) وہذا کثیر فی القرآن، یخبر أنہ إنما یعذّب من جاء ہ الرسول وقامت علیہ الحجۃ وہو المذنب الذی یعترف بذنبہ۔‘‘[2] ’’یقینا اللہ تعالیٰ کسی کو قیام حجت کے بعد ہی عذاب دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم کوئی رسول بھیج دیں‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ایسے رسول جو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے تاکہ لوگوں کے پاس رسولوں کے بعد اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہ جائے۔‘‘ اس طرح کے مقامات قرآن حکیم میں بہت زیادہ ہیں جن میں وہ خبر دیتا ہے کہ وہ رسول کے آنے کے بعد اورحجت قائم ہو جانے پر ہی عذاب دیتا ہے اور وہی گناہگار ہے جو اپنے گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے۔‘‘[3] [1] ) الفصل 4/105۔ وفی نسخہ 2/3662، ط: عباس احمد الباز [2] ) طریق الہجرتین لابنالقیم الجوزی، ص: 413۔ [3] ) نیز دیکھیں: الزمر: 71۔ الانعام: 130۔ فاطر: 37۔ قصص: 59۔ الملک: 8۔9۔