کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 177
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایک اور مقام پر رقمطراز ہیں: ’’من کان مؤمنا باللّٰہ ورسولہ مطلقا ولم یبلغہ من العلم ما یبین لہ الصواب فانہ لا یحکم بکفرہ حتی تقوم علیہ الحجۃ التی من خالفہا کفر إذ کثیر من الناس یخطیء فیما یتأولہ من القرآن ویجھل کثیرا مما یرد من معانی الکتاب والسنۃ والخطأ والنسیان مرفوعان عن ہذہ الأمۃ والکفر لا یکون إلا بعد البیان۔‘‘[1] ’’جو شخص مطلق طور پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہو اور اس کے پاس وہ علم نہیں پہنچا جو اس کے لیے راہِ صواب کو کھول کر واضح کردے، اس پر اتنی دیر تک کفرکا حکم نہیں لگایا جائے گا یہاں تک کہ اس پر وہ حجت قائم ہو جائے جس کی مخالفت کرنے والا کافر ہوتا ہے، جبکہ بہت سارے لوگ قرآن کی تاویل میں خطاکر جاتے ہیں اور کتاب و سنت کے بہت سارے معانی سے جاہل ہوتے ہیں اور خطا و نسیان دونوں اس امت سے اٹھا دیے گئے ہیں اور کفرکا حکم بیان و توضیح کے بعد ہی ہوتا ہے۔‘‘ امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ولا خلاف في أن امرأ لو أسلم ولم یعلم شرائع الإسلام فاعتقد أن الخمر حلال، وأن لیس علی الإنسان صلاۃ، وہو لم یبلغہ حکم اللّٰہ تعالی لم یکن کافرا بلا خلاف یعتد بہ، حتی إذا قامت علیہ الحجۃ فتمادی حینئذ بإجماع الأمۃ فہو کافر۔‘‘[2] ’’اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر کوئی شخص اسلام قبول کرے اور اسلام کے مقرر کردہ راستے وہ نہیں جانتاتو اس نے عقیدہ بنا لیا کہ شراب حلال ہے اور انسان کے ذمہ نمازنہیں ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کا حکم نہیں پہنچا وہ کافر نہیں ہو گا اس میں کوئی قابل ذکر اختلاف نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر حجت قائم ہو جائے پھر وہ سرکشی کرے تو اجماع امت ہے کہ وہ کافر ہے۔‘‘ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ’’قال اللّٰہ عزوجل:( لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ )الانعام: 19) وقال تعالی: {وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا} (الاسرائ: 15) فنص تعالی ذلک علی أن النذارۃ لا تـلـزم إلا من بلغتہ لا من لم تبلغہ وأنہ تعالی لا یعذب أحداً حتی [1] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: 12/523۔524. [2] ) المحلی: 12/135۔ وفی نسخۃ: 11/206.