کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 175
کرنے اور عذر ختم کرنے کے لیے ہے۔‘‘ امام ابن عادل الدمشقی نے بھی یہی بات اپنی تفسیر اللباب التأویل فی علوم الکتاب: 12/233 ط دارالکتاب العلمیہ بیروت میں اور اسی طرح علامہ علاء الدین علی بن محمد المعروف بابن خازن لباب التأویل فی معانی التنزیل المعروف تفسیر خازن: 3/125 دارالکتب العلمیہ نے لکھا ہے۔ امام ابوالاسحاق الثعلبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا) إقامۃ للحجۃ علیہم بالآیات التي تقطع عذرہم۔‘‘[1] ’’اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں۔ ان پر ایسی آیات کے ساتھ حجت قائم کرنے کیلیے جو ان کا عذر ختم کر دیں۔‘‘ نواب صدیق حسن خان قنوجی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’إنہ لا یعذب عبادہ إلا بعد الإعذار إلیہم بإرسال رسلہ وإنزال کتبہ فبین سبحانہ إنہ لم یترکہم سدی ولا أخذہم قبل إقامۃ الحجۃ علیہم۔‘‘[2] ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عذاب نہیں دیتا مگر اپنے رسولوں کو بھیج کر اور کتب نازل کرکے ان کے عذر ختم کرنے کے بعد، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کھول کر واضح کر دیا کہ اس نے انہیں بے کار نہیں چھوڑا اورنہ ہی حجت قائم کرنے سے پہلے ان کی پکڑکرے گا۔‘‘ علامہ محمد طاہر ابن عاشورہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ودلت الآیۃ علی أن اللّٰہ لا یؤاخذ الناس إلا بعد أن یرشدہم رحمۃ منہ لہم وہي دلیل بین علی انتفاء مؤاخذۃ أحد ما لم تبلغہ دعوۃ رسول من اللّٰہ إلی قوم۔‘‘[3] ’’یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی رہنمائی کرنے کے بعد ہی مؤخذہ کرتا ہے یہ اس کی طرف سے انسانوں کے حق میں رحمت ہے اس کی کھلی دلیل ہے کہ جب تک کسی قوم کے پاس اللہ کے کسی رسول کی دعوت نہیں پہنچتی تو وہ اس کا مؤاخذہ نہیں ہے۔‘‘ [1] ) الکشف والبیان: 6/90۔ ط دار احیاء التراث العربی۔ [2] ) فتح البیان فی مقاصد القرآن: 4/113۔ ط دارالکتب العلمیۃ۔ [3] ) التحریر والتنویر: 14/43۔ ط مؤسسۃ التاریخ العربی بیروت۔