کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 173
ضابطہ نمبر2 قیام حجت اور زوال شبہات کسی بھی مسلمان کی تکفیر اس کے قول، فعل یا اعتقاد پر نہ کی جائے گی یہاں تک کہ اس پر حجت قائم نہ کر دی جائے اور اس سے متعلقہ امور میں شبہات کو زائل نہ کر دیا جائے۔ اس حجت کو قرآن مجید نے اس طرح بیان کیا ہے: (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا) (الاسرائ: 15) ’’اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔‘‘ علامہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی لکھتے ہیں: ’’واللّٰہ تعالی أعدل العادلین لا یعذب أحدا حتی تقوم علیہ الحجۃ بالرسالۃ ثم یعاند الحجۃ۔ وأما من انقاد للحجۃ أو لم تبلغہ حجۃ اللّٰہ تعالی فإن اللّٰہ تعالی لا یعذبہ۔ واستدل بہذہ الآیۃ علی أن أہل الفترات وأطفال المشرکین، لا یعذبہم اللّٰہ حتی یبعث إلیہم رسولا لأنہ منزہ عن الظلم۔‘‘[1] ’’اللہ تبارک و تعالیٰ سب سے بڑا عادل ہے اس وقت تک کسی کو عذاب نہیں دے گا جب تک اس پر رسالت کی حجت نہ قائم ہو جائے اور یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس نے حجت کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا ہے۔ رہا وہ شخص جس نے رسالت کی اس حجت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا یا اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی حجت پہنچی ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو عذاب نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل فترات (یعنی اس زمانے یا علاقے کے لوگ جن تک نبوت نہیں پہنچی) اور مشرکین کے بچوں کو عذاب نہیں دے گا جب تک ان کی طرف رسول نہ بھیج دے کیونکہ وہ ظلم سے پاک اور منزہ ہے۔‘‘[2] تقریباً یہی بات شیخ صالح العثیمین نے اپنی تفسیر ’’التفسیر الثمین‘‘: (5/160) میں بیان کی ہے۔ [1] ) تفسیر السعدی ص: 529۔ ط دار احیاء التراث العربی۔ [2] ) تفسیر سعدی اردو: 2/1450۔1451۔ ط دارالسلام۔