کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 168
فالکافر من جعلہ اللّٰہ ورسولہ کافرا والفاسق من جعلہ اللّٰہ ورسولہ فاسقا۔‘‘[1] ’’بے شک کفر فسق شرعی احکام ہیں یہ ان احکام میں سے نہیں ہیں جن کے ساتھ عقل مستقل ہوتی ہے سو کافر وہ ہے جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر قرار دیا فاسق وہ ہے جسے اللہ اس کے رسول نے فاسق قرار دیا ہے۔‘‘اور قرافی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’تکفیر کا عقلی اُمور میں کوئی دخل نہیں بلکہ یہ شرعی اُمور میں سے ایک اہم ترین امر ہے، پس جس چیز کے بارے میں شارع نے کہا کہ یہ کفر ہے تو اس کا مرتکب کافر ہو گا چاہے اس کام کا شمار کسی بھی ضمن میں ہو۔‘‘ [2] اسی طرح غزالی رقمطراز ہیں: ’’کفر ایک شرعی حکم ہے جیسے رق اور حریت وغیرہ کیونکہ کسی کی تکفیر کا مطلب ہے اس کا خون ہم پر حلال ہو گیا اور جہنم میں ہمیشہ رہے گا پس اس کا تکفیر کا فیصلہ نص قرآنی یا حدیث پر کیا جائے گا۔‘‘[3] اور علامہ ابن الوزیر فرماتے ہیں:’’کہ بے شک تکفیر ایک سمعی حکم ہے یعنی شرعی، اس میں عقل کا کوئی دخل نہیں اور جب تک دلیل قطعی نہ وارد ہو جائے تکفیر نہ کی جائے گی۔‘‘[4] اور ابن القیم نے اس بات کو اپنے قصیدہ نونیہ میں نظم کیا: الکفرحق اللّٰہ ثم رسولہ بالنص الثابت لا بقول فلان من کان رب العالمین وعبدہ قد کفراہ فذاک ذو الکفران [5] ’’تکفیر صرف اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے یعنی نصوص قطعیہ کے ساتھ نہ کہ کسی کے قول کی وجہ سے۔‘‘ اس کی شرح میں دکتور محمد خلیل ہراس لکھتے ہیں:’’إنہ لیس لأحد من الناس أن یکفر أحدا لمخالفتہ لہ فی رأیہ بل التکفیر حق اللّٰہ ورسولہ وحدہما فلا یثبت إلا بالنص ولا یقع برأی أحد ولا بقولہ فمن کفرہ اللّٰہ ورسولہ فہو الکافر حقا۔‘‘[6] ’’بلاشبہ لوگوں میں سے کسی کا حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے کو کافر کہے اس کے ساتھ رائے [1] )منهاج السنة لا بن تيمية:/5 92. [2] )تهذيب الفروق للقرافي: 158/4. [3] )فيصل التفرفة بين الاسلام والتزندقة للغزالي:128 [4] )العواصم والقواصم لا بن الوزير:/4178 [5] )فيصد نونية،ص 912 – ناشر مكتبة ابن تيمية، القصيد النونية مع شرحة:/2267-ط دار الكتب العلمية بيروت وفي نسخة: /2633-ط مصر [6] )شرح قصيدنونية:/2 268