کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 163
ضابطہ نمبر1 تکفیر شرعی اُمور میں سے ایک حکم تکفیر شرعی امور میں سے ایک حکم ہے جو کہ صرف اور صرف رب کریم اور اس کے رسول کا حق ہے اور اس کے حق میں کوئی جماعت، افراد، عقل، ذوق، تعصب اور حمیت وغیرہ کا عمل دخل نہیں ہے۔ جیسا کہ پچھلی سطور پر میں نے کفر کی تعریفی صفحات میں یہ واضح کیا کہ تکفیر کے نتائج و عواقب کیا کیاہو سکتے ہیں لہٰذا ان منفی نتائج و عواقب سے بچنے کے لیے اس منہج کو پکڑ لیں کہ تکفیر ایک شرعی مسئلہ ہے جو کہ صرف اور صرف رب کریم اور اس کے رسول کا حق ہے واضح رہے۔ سیّدنا عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہ: ’’بایعنا علی السمع والطاعۃ في منشطنا ومکرہنا وعسرنا ویسرنا وأثرۃ علینا وأن لا ننازع الأمر أہلہ إلا أن تروا کفرا بواحا عندکم من اللّٰہ فیہ برہان۔‘‘[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے احکام سننے، اطاعت کرنے پر بیعت لی خواہ ہماری خوشی ہو یا ناخوشی، ہماری تنگی ہو یا ہماری آسانی، خواہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے کہ ہم حکومت کے معاملے میں حکام سے جھگڑا نہیں کریں گے، سوائے اس کے کہ تم کفر صریح دیکھو تمہارے پاس اللہ کی طرف سے اس کفر صریح پر دلیل واضح ہو۔‘‘ طبرانی کی روایت میں ’’فر ابواحا‘‘ کی جگہ ’’فر اصراحا‘‘ آیا ہے۔[2] یعنی صریح اور کھلم کھلا کفر دیکھ لو۔اس حدیث میں ’’عندکم من اللّٰہ فیہ برہان‘‘ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ مسلمان کو کافر قرار دینے کے لیے بندے کی اپنی اہوائ، آرائ، تعصب و حمیت، ضد و ہٹ دھرمی، ظن و تخمین وغیرہ کا دخل نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کا حق ہے۔ اللہ کی طرف سے کوئی منصوص آیت یا ایسی صحیح و صریح حدیث جس میں کسی قسم کا احتمال نہ ہو، وہ چاہیے۔حافظ ابن حجر عسقلانی راقم ہیں: [1] ) صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم سترون بعدی امورا تنکرونہا (7056)۔ صحیح مسلم کتاب الامار: 42/1709۔ مسند احمد: 37/353 (22679)، (22737)۔ بیہقی: 7/145۔ شرح السنۃ للبغوی: 2457۔ [2] ) فتح الباری: 16/440۔ ط۔ دار طیبۃ۔