کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 158
اصول تفسیر، حدیث میں اصول حدیث، فقہ میں اصول فقہ وغیرہ تاکہ ہم اس مضمون کے ساتھ کما حقہ اس کے تقاضے پورے کریں اور کر سکیں۔ ہر علم میں ہم اس کے اصول سمجھتے ہیں تو صرف اور صرف اخطاء سے بچنے کے لیے اور انجانے میں کسی ایسی بات سے بچنے کے لیے جو ہمیں کفرکی حد تک لے جائے۔ لہٰذا مسئلہ تکفیر میں بھی کچھ اصول ضوابط ہیں جن کی معرفت حاصل کرنا ہر ذی علم پر فرض ہے کہ اس صورت میں ہی وہ اپنے اوپر عائد فرائض سے عہدہ براہ ہو سکتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص اس مسئلہ میں اس کے ضوابط و شروط کو مد نظر نہیں رکھتا تو سب سے پہلے تو وہ تکفیر اس پر ہی لوٹ رہی ہے اوروہ واضح طور پر اپنی ہلاکت کا سامان مہیا کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہو گا۔ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إذا قال الرجل لأخیہ یا کافر فقد باء بہ أحدہما۔))[1] ’’جب آدمی اپنے بھائی سے کہے اے کافر! تو اس کفر کے ساتھ دونوں میں سے ایک لوٹ آتا ہے۔‘‘ اسی طرح یہی حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ثابت بن الضحاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’ومن رمی مؤمنا بکفر فہو کقتلہ۔‘‘[2]’’جس نے کسی مومن کو کفر کی تہمت لگائی تو وہ اس کے قتل کرنے کی طرح ہے۔‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث پریوں باب باندھا ہے: ’’باب من کفر أخاہ بغیر تأویل فہو کما قال‘‘ جس نے اپنے مسلمان بھائی کو تاویل کے بغیر کافر کہا تو وہ خود کافر ہو جائے گا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اس باب کی شرح میں لکھتے ہیں: امام بخاری نے مطلق خبر کو بغیر تاویل کے ساتھ مقید کیا ہے یعنی تاویل و دلیل کے بغیر اگر کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہہ دیا تو کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے اور اگرکافر کہنے کی واضح نص اور دلیل موجودہو تو پھر کہنے والاکافر نہیں ہو گا۔ ملاحظہ کریں فتح الباری شرح صحیح البخاری، متاول یا جاہل کی تکفیر کا علیحدہ باب باندھا ہے۔ الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں مرقوم ہے۔[3] ’’ویجب کذلک علی الناس اجتناب ہذا الأمر والفرار منہ وترکہ لعلمائہم [1] ) صحیح البخاری کتاب الادب: 6103۔ [2] ) صحیح البخاری: 6104۔ [3] ) فتح الباری: 13/680،679۔ ط دار طیبۃ۔