کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 149
تیسری فصل: تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط اسلام دین فطرت ہے اور ہر انسان فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے اور اصل اس میں اسلام ہے جبکہ کفر طاری اور اچانک پیش آنے والا ہے ہر وہ شخص جس نے’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کہہ لیا ہے وہ مسلم ہے اور دائرہ اسلام میں داخل ہے اور اس کو کسی پختہ دلیل کے بغیر کافر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے اگر اس میں شرائط کفر پائی جائیں اورموانعات کفر کی نفی ہو جائے پھر وہ اسلام سے خارج ہوتا ہے شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان شرائط کی تفصیل اپنے فتاوی میں کئی مقامات پر پیش کی ہے اورموانعات کفرکا بھی مفصل بیان فرمایا ہے ایک مقام پر رقمطراز ہیں: ’’وأما إذا کان یعلم ما یقول: فإن کان مختارًا قاصدًا لما یقولہ فہذا ہو الذین یعتبر قولہ۔‘‘[1] ’’بہر کیف جب کلمہ کفر کہنے والا اس بات کو جانتا ہو جو وہ کہہ رہا ہو۔ تو اگر جو کہہ رہا ہے اس میں وہ مختار اور قصد و ارادہ رکھنے والا ہو تو اس کا کفر تکفیر کے لیے معتبر ہو گا۔‘‘ اس مقام پر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تین بنیادی باتیں بیان کی ہیں: 1 ’’یعلم‘‘ یعنی وہ بات کو جانتا ہو کہ یہ کفر ہے جاہل نہ ہو اس لیے کہ جہالت مانع کفر ہے۔ 2 ’’مختارا‘‘ وہ بات کرتے وقت مختار ہو مکروہ نہ ہو کیونکہ اکراہ و جبر تکفیر کے لیے مانع ہے۔ 3 ’’قاصدا‘‘ وہ بات قصد و ارادہ سے کرے خطاً اس سے قول کفر سرزد نہ ہو اس لیے کہ خطا پر بھی پکڑ نہ ہو گی یہ بھی مانع کفر ہے۔ [1] ) مجموع الفتاوی: 118/14 .