کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 146
یہود: (يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ )(المائدۃ: 4) ’’تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے؟ کہہ دے تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور شکاری جانوروں میں سے جو تم نے سدھائے ہیں، (جنھیں تم) شکاری بنانے والے ہو، انھیں اس میں سے سکھاتے ہو جو اللہ نے تمھیں سکھایا ہے تو اس میں سے کھائو جو وہ تمھاری خاطر روک رکھیں اور اس پر اللہ کا نام ذکر کرو اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘ 6 کفر شک: کفر کی چھٹی قسم ان لوگوں کے بارے میں ہے کہ جو ہمیشہ تک اور شبہات میں رہتے ہیں یعنی تذبذب کی کیفیت میں لا من ہؤلاء ولا من ہؤلاء باوجود حق کے واضح ہونے کے اور اظہر من الشمس ہونے کے۔اسی چیز کو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ اہل الحدیث جمہور فقہاء مالکیہ، شافعیہ، حنبلیہ، عام صوفیاء متکلمین وغیرہ کا اتفاق ہے کہ: ’’أن من لم یؤمن بعد قیام الحجۃ علیہ بالرسالۃ فہو کافر سواء کان مکذبا؛ أو مرتابا؛ أو معرضا؛ أو مستکبرا؛ أو مترددا؛ أو غیر ذلک۔‘‘[1] ’’کہ جو کوئی رسالت کی حجت کے قیام کے بعد اس پر ایمان نہ لائے چاہے وہ تکذیب کی شکل میں ہو یا شک کی صورت میں اعراض ہو یا تکبر ہو یا تذبذب وغیرہ کے ذریعے انکارکرے وہ کافر ہو گا۔‘‘ ......................... [1] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: 20/87۔