کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 139
کنت کاذبا فأنت أحقر من أن أکلمک۔‘‘[1] ’’اور کفراعراض… پس معرض اپنی سماعت اور اپنے قلب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے منہ پھیر لیتا ہے نہ تو ان کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تکذیب اور نہ توان سے دوستی کرتا ہے اور نہ ہی دشمنی اور آپ کی تعلیمات پر قطعی طور پر کان نہیں دھرتا جیسا کہ عبد یا لیل کی اولاد میں سے ایک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے ایک بات کہتا ہوں اگر تو سچا ہے تومیری آنکھ میں اس بات سے بڑھ کر ہے کہ میں تیرا رد کروں اور اگر تو جھوٹا ہے تو تو اس بات سے زیادہ حقیر ہے کہ میں تجھ سے کلام کروں۔‘‘اور ایک جگہ رقم طراز ہیں کہ: کفر اعراض صرف یہ نہیں کہ وہ رسول کی تعلیم سے صرف نظر کرتا ہے نہ تومحبت کرتا ہے اور نہ ہی بغض رکھتا ہے، نہ پسندیدگی کے معیار پر رکھتا ہے اور نہ ہی ناپسندیدگی بلکہ وہ اس کی اتباع سے بھی صرف نظر رکھتا ہے۔[2] اور شیخ الاسلام رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ’’کفر، تکذیب سے زیادہ عمومیت رکھتا ہے پس ہر وہ انسان جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو جھٹلایا وہ کافر ہے جبکہ تمام کافر جھٹلانے والے یا تکذیب کرنے والے نہیں ہوتے بلکہ وہ شخص جو کہ دین اسلام کی صداقت کا علم رکھتا ہے اور اس کا اقرار کرتا ہے لیکن اس علم اوراقرار کے باوجود وہ اس سے بغض رکھتا ہے یا نفرت کرتا ہے وہ کافر ہے یا جو صرف نظر کرتا ہے نہ تو تصدیق اور نہ ہی تکذیب تو وہ کافر متصورہو گا جبکہ وہ جھٹلاتا نہیں ہے۔‘‘[3] دین میں اعراض کی مزید تفصیلات درج ذیل آیات اور ان کی تفسیر میں ملاحظہ کریں: اللہ تعالیٰ کی آیات اور نشانیوں سے اعراض اور اس کی مذمت: (أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَأَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ )(الانعام: 6) ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے، جنھیں ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمھیں نہیں دیا اور ہم نے ان پر موسلا دھار بارش برسائی اور ہم [1] ) مدارج السالکین لابن القیم، ص: 212۔ ط دارالکتب العلمیہ: 2/907۔908۔ ط دارالصمیعی۔ [2] ) مفتاح دارالسعاد لابن القیم: 1/94۔ [3] ) التسعینیہ لابن تیمیہ: 166۔