کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 138
(كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (3) بَشِيرًا وَنَذِيرًا فَأَعْرَضَ أَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ ) (فصلت: 3۔4) ’’ایسی کتاب جس کی آیات کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی قرآن ہے، ان لوگوں کے لیے جوجانتے ہیں ۔ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا، تو ان کے اکثر نے منہ موڑ لیا، سو وہ نہیں سنتے۔‘‘ یعنی اس کے باوجود کہ اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے اور اس میں حلال اور حرام کو کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے اور طاعات کیا ہیں معاصی کیا ہیں ثواب والے کام کون سے ہیں اور عقاب والے کام کون سے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ لوگ اس پر غور و فکر اور تدبر و تعقل کی نیت سے نہیں سنتے کہ جس سے انہیں فائدہ ہو اس لیے ان کی اکثریت ہدایت سے محروم ہے۔[1] اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: (وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ وَمِنْ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُونَ )(فصلت: 5) ’’اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں ایک بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک حجاب ہے، پس تو عمل کر، بے شک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں۔‘‘ اس آیت میں بات صاف ہو گئی کہہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں کہ ہم تیری توحید اور ایمان کی دعوت کو سمجھ سکیں اور ہمارے کانوں میں بہرا پن ہے جو حق بات سننے سے مانع تھا اور ہمارے تمہارے درمیان ایساپردہ ہے کہ تو جو کہتا ہے ہم سن نہیں سکتے اور جو کرتا ہے اسے دیکھ نہیں سکتے اس لیے تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم تجھے تیرے حال پر چھوڑ دیں تو ہمارے دین پر عمل نہیں لہٰذاہم تیرے دین پر عمل نہیں کر سکتے۔ ابن القیم رحمہ اللہ اس کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’فأن یعرض بسمعہ وقلبہ عن الرسول لایصدقہ ولا یکذبہ ولا یوالیہ ولا یعادیہ ولا یصغي إلی ما جاء بہ ألبتۃ کما قال أحد بني عبد یا لیل للنبي: واللّٰہ أقول لک کلمۃ إن کنت صادقا فأنت أجل في عیني من أن أرد علیک وإن [1] ) تفسیر ابی مسعود، تفسیر سورۃ فصلت آیت نمبر: 4،3۔ 6/34۔ ط دارالفکر بیروت۔