کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 137
خوف کھاتے ہوئے ترک کر دیا۔‘‘[1] 4 کفر نفاق: لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کوئی ظاہری طور پر تو اسلام قبول کرتے ہیں لیکن باطن اس کے مخالف ہوتے ہیں صرف اور صرف ریاکاری یعنی لوگوں کو دکھانے کے لیے یا پھر اپنے دنیاوی مصالح و فوائد کی خاطر یہ بھیس بدلتے ہیں اور یہی لوگ قرآنی اصطلاح میں منافقین کہلاتے ہیں۔ ان کی واضح صفات ہیں: بخل، بغض، تذبذب، ایمان کو ظاہری قبول کرنا، لڑائی جھگڑے، ریاکاری، گمراہی، طغیانی، گرور، غیظ، فسق، کذب، عبادات میں سستی، دلوں میں بیماری، فتنہ کو پسند کرنا، خواہشات نفسانی کی پیروی، وعدہ کی خلاف ورزی، سب و شتم، منکرات کا حکم دینا، جماعت سے تخلف، جہاد سے تخلف، تکبر، جھوٹی قسمیں کھانا، دھوکہ دینا، اطاعت سے خروج، موت سے ڈرنا، ظلم، کفار سے دلی دوستیاں اور تعلقات، معروف سے منع کرنا وغیرہ۔ یہ وہ صفات ہیں جو قرآن مجید اور احادیث میں مذکور ہیں۔ اعاذنا اللّٰہ من ہذہ الجمیع امین! ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’وأما النفاق فالداء العضال الباطن الذي یکون الرجل ممتلئا منہ وہو لا یشعر فإنہ أمر خفي علی الناس وکثیرا ما یخفی علی من تلبس بہ فیزعم أنہ مصلح وہو مفسد۔‘‘[2] ’’نفاق باطنی لا علاج بیماری ہے جس سے آدمی لا شعوری طور پر بھرا ہوتا ہے، یہ لوگوں پر ایک مخفی امر ہے اور اس شخص پر بھی بہت زیادہ مخفی ہوتا ہے جو اس بیماری میں ملوث ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ میں مصلح ہوں حالانکہ وہ مفسد ہوتا ہے۔‘‘ اور اس کی دو قسمیں ہیں: نفاق اکبر اورنفاق اصغر، یا یوں کہہ لیں کہ نفاق اعتقادی اور نفاق عملی… تفصیل کے لیے امام ابن القیم کی کتاب ’’مدارج السالکین ص: 218، 228۔ ط: دارالکتب العلمیہ بیروت 931/2۔ 957، ط: دارالصمیعی‘‘ دیکھیں۔ 5 کفر اعراض: جو شخص تعلیمات اسلام سے منہ پھیرتا ہے یعنی نہ تو تصدیق اور نہ ہی تکذیب اورنہ اس پر غورو فکر کرتا ہے۔ جیسا کہ کتاب مقدس میں ہے: [1] ) دیکھیں: ہود: 59۔ ابراہیم: 15۔ قٓ: 24۔ مدثر: 16۔ [2] ) مدارج السالکین، ص: 218۔