کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 134
’’ہو أن یعرف اللّٰہ تعالی ولا یقر بلسانہ۔‘‘[1] ’’آدمی اللہ تعالیٰ کی پہچان کرے اور زبان سے اس کا اقرار نہ کرے۔‘‘ اور بعض اوقات یہ نفی عمل تک ہی پہنچ جاتی ہے یعنی زبان اور عمل دونوں ہی نفی میں شریک ہوتے ہیں۔ جیسے فرعون کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر اور یہود کا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر اور قرآن مجید نے اسی کفر کو واجح کرتے ہوئے بیان کیا ہے: (وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا )(النمل: 14) ’’اور انھوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کر دیا، حالانکہ ان کے دل ان کا اچھی طرح یقین کر چکے تھے۔‘‘ یہ تھا کفر جحود کا مرکزی خیال کہ اعتراف قلبی کے باوجودانکارکر دیا صرف اور صرف تعصب اور غرور و تکبر کی وجہ سے لہٰذا یہ اس بات کا بھی علم ہوا کہ ہمارے معاشرے میں برائیوں اور جرائم کے اہم اسباب میں سے برائی، تعصب اور ظلم بھی ہے بلکہ ہر برائی ظلم ہے کیونکہ ظلم ہر چیز کو اس کے مناسب مکان پر نہ رکھنا ہے اور کفر سے بڑی برائی کون سی ہو گی کہ ہم اللہ تعالیٰ کا حق کسی اور کو دے دیں۔ اعاذنا اللّٰہ من ہذا! 3 کفر عناد: کفر عناد سے مراد حق کو ظاہری اور باطنی طور پر پہچاننا لیکن اس پر لبیک کہنے سے عار محسوس کرنا اب اس کی وجہ سے بغض، حسد وغیرہ ہو سکتی ہے کہ باوجود اس کے کہ حق کی تصدیق کی جا رہی ہے لیکن زبانی تصدیق کرنا اور اس کا عملی مظہر اس کی مخالفت میں ہو تو یہ عملی مظہر اس کی تصدیق کی نفی کرتا ہے، جیسا کہ ابلیس ملعون و رجیم کا کفر تھا۔قرآن مجید میں ہے: (إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ) (البقرۃ: 34) ’’مگر ابلیس، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں سے ہوگیا۔‘‘ ایک اور جگہ فرمایا: (قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا )(الاسرائ: 61) ’’اس نے کہا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تونے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘اور فرمایا: (قَالَ لَمْ أَكُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ )(الحجر: 33) [1] ) النہایہ، ص: 806۔