کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 133
قرآن مجید کی تکذیب: (بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ )(یونس: 39) ’’بلکہ انھوں نے اس چیز کو جھٹلا دیا جس کے علم کا انھوں نے احاطہ نہیں کیا، حالانکہ اس کی اصل حقیقت ابھی ان کے پاس نہیں آئی تھی۔ اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے۔ سو دیکھ ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔‘‘ (فَذَرْنِي وَمَنْ يُكَذِّبُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ )(القلم: 44) ’’پس چھوڑ مجھے اور اس کو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے، ہم ضرور انھیں آہستہ آہستہ (ہلاکت کی طرف) اس طرح سے لے جائیں گے کہ وہ نہیں جانیں گے۔‘‘ (وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ (21) بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُكَذِّبُونَ )(الانشقاق: 21۔22) ’’اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے ۔ بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جھٹلاتے ہیں۔‘‘ 2 کفر جحود: کفر تکذیب میں دل اور زبان دونوں سے انکار تھا یہاں صرف زبان سے انکار ہے یعنی دل سے تو اعتراف ہے لیکن زبان حال اس کی نفی کرتی ہے۔ امام بغوی لکھتے ہیں: ’’وکفر الجحود ہو أن یعرف اللّیہ تعالیٰ بقلبہ ولا یقر بلسانہ۔‘‘[1] ’’کفر جحود یہ ہے کہ اللہ کو دل سے پہچانتا ہے اور اپنی زبانی سے اقرار نہیں کرتا۔‘‘حافظ الحکمی فرماتے ہیں: ’’وإن کتم الحق مع العلم بصدقہ، فکفرالجحود والکتمان۔‘‘[2] ’’اور حق کی صداقت کو جانتے بوجھتے چھپائے توکفر جحودوکتمان ہے۔‘‘ علامہ ابن اثیر الجزری لکھتے ہیں: [1] ) معالم التنزیل: 1/48۔ [2] ) معالم التنزیل: 1/48۔