کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 128
جو تم کیا کرتے تھے؟‘‘ یعنی قسم قسم کر دیے جائیں گے یعنی زانیوں کا ٹولہ، شرابیوں کا ٹولہ وغیرہ یا یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ ان کو روکا جائے گا یعنی ان کو ادھر ادھر اور آگے پیچھے ہونے سے روکا جائے گا اور سب کو ترتیب وار جہنم میں پھینک دیا جائے گا اورحجت کیا قائم ہو گی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے میری توحید اور دعوت کے دلائل کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور اس کے بغیر ہی میری آیات کو جھٹلاتے رہے اور آخر میں ایسا کون سا سبب تھا جس کی بناء پر تمہیں میری باتوں پر غور کرنے کا موقع ہی نہ ملا۔[1] اور ایک جگہ واضح فرمایا: (وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ) (البقرۃ: 39) ’’اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔‘‘ تکذیب کی مختلف پہلو اور صورتیں ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔ تفصیل کے لیے قرآن مجید کی درج ذیل آیات ملاحظہ کریں: اللہ کی آیات سے انکار اور اس کی جزائ: (وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ) (البقرۃ: 39) ’’اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔‘‘ (إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ )(الاعراف: 40) ’’بے شک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انھیں قبول کرنے سے تکبر کیا، ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ (سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُو ا [1] ) تفسیر فتح القدیر الشوکانی، تفسیر سورۃ نمل زیر تحت آیت، تفسیر ابن کثیر نمل: 8481۔ 4/154۔ ط: احیاء التراث العربی بیروت۔