کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 126
الحجۃ وأزال بہ المعذرۃ قال اللّٰہ تعالیٰ عن فرعونوقومہ (وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّ)(النمل: 14) وقال لرسولہ: (فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ )(الأنعام: 33) وإن سمي ہذا کفرتکذیب أیضا فصحیح إذ ہو تکذیب باللسان۔‘‘[1] ’’بہر حال کفر تکذیب رسولوں کی تکذیب کا عقیدہ رکھنا ہے اور یہ قسم کفار میں بہت تھوڑی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی تائید کی اور ان کی سچائی پر انہیں براہین و معجزات عطا کیے جن کے ساتھ حجت قائم کی اور عذر دور کیا اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کے بارے میں فرمایا: اور انہوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل ان کا اچھی طرح یقین کر چکے تھے پس دیکھ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ اوراپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ’’تو بے شک وہ تجھے نہیں جھٹلاتے اور لیکن ظالم اللہ کی آیات ہی کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ اگر اس قسم کا نام کفر تکذیب ہی رکھا جائے تو صحیح ہو گا جبکہ یہ زبان کے ساتھ تکذیب ہے۔‘‘ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے جسے کفر تکذیب کہا ہے اسے دیگر کئی علماء کفر انکار بھی کہتے ہیں: ’’امام بغوی لکھتے ہیں: ’’والکفر علی أربعۃ أنحائ: کفر إنکار، وکفر جحود، وکفر عناد، وکفر نفاق، فکفر الإنکار: أن ال یعرف اللّٰہ أصلا ولا یعترف بہ، وکفر بہ۔‘‘[2] ’’کفر چار اقسام پر ہے: اوّل: کفر انکار، دوم: کفر جحود، سوم: کفر عناد، چہارم: کفر نفاق۔ تو کفر انکار یہ ہے کہ آدمی اصلا اللہ تعالیٰ کی پہچان ہی نہ کرے اور نہ اس کا اقرار کرے اور اس کا انکار کرے۔‘‘ امام ابن القیم کے ہاں کفر تکذیب انبیاء و رسل علیہم السلام کے جھوٹے ہونے کا عقیدہ رکھنا ہے تکذیب کا مرجع انکار قلب اور رسولوں کی صداقت کی معرفت نہ رکھنا ہے اور زبان کی تکذیب معرفت قلبی نہ ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں: ’’وسبب الإنکار باللسان ہو الإنکار بالقلب۔‘‘[3] [1] ) مدار السالکین : 2/907-906۔ طبع : دار الصمیعی [2] ) معالم التنزیل المعروف بتفسیر البغوی: 1/48۔ تحت آیت البقر: 6۔ [3] ) مفردات القرآن، ص: 505۔