کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 125
نے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا اس کے ساتھ کفر کیا۔‘‘ ’’لا ترجعوا بعد کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔‘‘ ’’تم میرے بعد کافرنہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔‘‘ پھر لکھتے ہیں: ’’وہذا تأویل ابن عباس وعامۃ الصحابۃ فی قولہ تعالی: (وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ) (المائدۃ: 44) قال ابن عباس: ’’لیس بکفر ینقل عن الملۃ بل إذا فعلہ فہو بہ کفر ولیس کمن کفر باللّٰہ والیوم الآخر‘‘ وکذلک قال طاووس وقال عطائ: ہو کفر دون کفر وظلم دون ظلم وفسق دون فسق۔‘‘[1] ’’یہ ابن عباس اور عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تفسیر ہے اس آیت کریمہ کے بارے میں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’یہ ایسا کفر نہیں ہے جو ملت سے خارج کر دے بلکہ وہ تو ایک کفریہ عمل کرتا ہے نہ کہ اس شخص کی طرح جو اللہ اور یوم آخرت کا انکاری ہے۔‘‘ اسی طرح طائووس فرماتے ہیں اور عطاء فرماتے ہیں: اس سے کفر دون کفر ہے اور ظلم دون ظلم ہے اور فسق دون فسق مراد ہے۔‘‘ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وأما الکفر الأکبر فخمسۃ أنواع: کفر تکذیب وکفر استکبار وإباء مع التصدیق وکفر إاعراض وکفر شک وکفر نفاق۔‘‘[2] ’’کفر اکبر کی پانچ انواع ہیں: کفر تکذیب، کفر استکبار اور تصدیق کے باوجود انکار، کفر اعراض، کفر شک اور کفر نفاق۔‘‘ پھر لکھتے ہیں: ’’فأما کفرالتکذیب: فہو اعتقاد کذب الرسل وہذا القسم قلیل فی الکفار فإن اللّٰہ تعالیٰ أید رسلہ وأعطاہم من البراہین والآیات علی صدقہم ما أقام بہ [1] ) مدارج السالکین ص: 211۔ ط دارالکتب العلمیہ: 2/903،901۔ ط دارالصمیعی نیز دیکھیں ’’کتاب الصلا وحکم تارکھا‘‘ لابن قیم ص: 49,48۔ ط دار ابن کثیر بیروت اور ’’التحذیر من فتنہ التکفیر‘‘ للشیخ الامام الابانی ص: 61۔ [2] ) مدارج السالکین ص: 212 و 2/906۔ ط دارالصمیعی۔