کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 124
عنقریب وہ ان کے اعمال ضائع کر دے گا۔‘‘ معلوم ہوا کہ کفر کبھی ارتداد کی صورت میں اور کبھی کفر و شرک کی صورت میں اور کبھی اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے ساتھ محاربت کی صورت میں رونما ہوتا ہے۔ حکم کے اعتبار سے کفر کی انواع کفر اپنے مزاج کے اعتبار سے دو بڑی قسموں میں تقسیم ہوتا ہے: اوّل:… کفر اکبر، جس کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ دوم:… کفر اصغر، جس کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ راقم ہیں: ’’فأما الکفر فنوعان: کفر أخبر وکفر أصغر فالکفر الأکبر: ہو الموجب للخلود فی النار والأصغر: موجب لاستحقاق الوعید دون الخلود۔‘‘[1] ’’بہر حال کفرکی دو انواع ہیں: کفر اکبر اور کفر اصغر۔ کفر اکبر جہنم میں ہمیشگی کو واجب کر دیتا ہے اورکفر اصغر وعید کو واجب کرتا ہے جہنم میں دوام اور ہمیشگی کو نہیں۔‘‘ پھر کفر اصغر کی مثالوں میں یہ احادیث بیان کیں: ’’لا ترغبوا عن آبائکم فانہ کفر بکم۔‘‘ ’’تم اپنے آبائو اجداد سے منہ نہ پھیرو، یقینا یہ تمہارا کفر ہے۔‘‘ ’’اثنتان فی امتی ہما بہم کفر الطعن فی النسب والنیاح۔‘’’دو چیزیں میری امت میں ایسی ہیں کہ جو کفر ہیں: حسب و نسب میں طعن کرنا اور نوحہ کرنا۔‘‘ ’’من اتی امرا فی دبرہا فقد کفر بما انزل علی محمد۔‘‘ ’’جس شخص نے اپنی بیوی کی دبر میں جماع کیا، تحقیق اس نے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا اس کے ساتھ کفر کیا۔‘‘ ’’من اتی کاہنا او عرافا فصدقہ بما یقول فقد کفر بما انزل اللّٰہ علی محمد۔‘‘ ’’جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس آیا پھر جو اس نے کہا اس کی تصدیق بھی کی تو بلاشبہ اس شخص [1] ) مدارج السالکین ص: 211۔ ط دارالکتب العلمیہ بیروت، ص: 2/,901،900۔ ط دارالصمیعی۔