کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 12
حرفِ آغاز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ الْاِنْسَانَ وَعَلَّمَہُ الْبَیَانَ وَاَخْرَجَہُ مِنْ ظُلْمَۃِ التَّکْفِیْرِ وَالطُّغْیَانِ وَأصَلِّیْ وَأُسْلِمُ عَلٰی سَیِّدِ الْاِنْسِ وَالْجَانِّ ، اَمَّا بَعْدُ! عصر حاضرمیں بے شمار فتن سر اٹھا چکے ہیں جو امت مسلمہ کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں اور معاشرے و سوسائٹی کے لیے زہر قاتل ہیں، جیسے عریانی و فحاشی، بے راہ روی، جنسی آزادی، عورت کا تجارتی اشتہاروں کی زینت بننا، اختلاط مرد و زن، جادوگروں اور کاہنوں کی کارستانیاں، قتل و غارت گری اور کشت و خون وغیرہ ان میں سے انتہائی خطرناک اور وحشت ناک فتنہ کسی مسلم کو کافر قرار دے کر اس کے خون، مال اور عزت کو مباح سمجھنا اور پھر ان کے دردناک قتل کی ویڈیوز جاری کر کے مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلانا اور زندہ لوگوں کو آگ میں جلا کر راکھ کر دینا ، اور اس اندوہناکی کے پیچھے کم عقل اور بے وقوف لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ عالم کفر پوری آب و تاب کے ساتھ غیر محسوس انداز میں کئی ایسے لوگوں کو استعمال کرتا ہے جو بظاہر بڑے متقی، پرہیز گار، نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے پابند، قرآن کے قاری، ظاہری نظر میں عابد و زاہد اور دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے والے ہوتے ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ مسند افتا پر ایسے لوگوں کو فائز کر دیا گیا جو ایمان و ایقان اورکفر و اسلام کے باریک مسائل سے آگاہ ہونا تو دور کی بات، طہارت و وضو کے مسائل سے بھی کما حقہ واقف نہیں ہوتے۔ ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے کئی نام نہاد مفتیان کا یہی حال ہے، حالانکہ کسی مسلمانوں کو کافر قرار دینا ایک بہت بڑا کام ہے، جس میں انسان کی خواہش، رائے، ظن، تخمین، تعصب مذہبی اور فرقہ ورارانہ تقلیدی جمود وغیرہ کو دخل نہیں ہے۔ اس کے لیے بڑی واضح، ٹھوس اور کتاب و سنت کی روشن دلیل درکار ہوتی ہے جس میں کسی قسم کی تاویل کا کوئی احتمال نہ ہو۔ کفر صرف شرعی دلائل سے ثابت ہوتا ہے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’الکفر حکم شرعی و إنما یثبت بالأدلۃ الشرعیۃ۔‘‘[1] [1] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ:17/78.