کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 99
تو قرآن میں ایسے شخص کے لیے کہا گیا ہے: (فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ) ’’جس عورت کو، اس کا خاوند (تیسری) طلاق بھی دے دے تو اب اس عورت کا اس مرد کے ساتھ نکاح جائز نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے۔‘‘[1] اس کا مطلب احادیث کی روشنی میں یہ ہے کہ ایسی مطلقہ ٔ ثلاثہ عورت کسی اور شخص سے آباد رہنے کی نیت سے نکاح کرے، پھر اتفاق سے وہ مر جائے یا وہ اس کو طلاق دے دے۔ تو اس عورت کا پہلے خاوند سے نکاح کرنا جائز ہوگا ۔ یہ قرآن کریم کی اس آیت کا وہ صحیح مفہوم ہے جو دیگر دلائل کو سامنے رکھ کر متعین کیا گیا ہے اور اہل حق کے ہاں مسلمہ ہے۔ لیکن دو گروہوں نے دیگر دلائل شرعیہ و حدیثیہ سے گریز کرکے(حَتَّىٰ تَنكِحَ)(نکاح) کے صرف لغوی معنی کو سامنے رکھ کر نہایت غلط موقف اختیار کیا ہے ۔ ایک نے کہا : اگر ایسی عورت کسی مرد سے نکاح کر لیتی ہے ، اس سے تعلق زوجیت قائم نہیں کرتی اور اس کو طلاق ہو جاتی ہے تو اس عورت کا پہلے خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے۔ (یہ موقف فراہی گروہ ، جس کو غامدی گروہ بھی کہا جا سکتا ہے، نے اختیار کیا ہے جو حدیث کو قطعاً اہمیت نہیں دیتا ۔ ملاحظہ ہو تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ زیر تحت آیت مذکورہ۔) یہ مطلب نکاح کے ظاہری اور لغوی معنی کے اعتبار سے تو صحیح ہے لیکن دیگر دلا ئل شرعیہ کی روشنی میں یکسر غلط ہے کیونکہ حدیث کی رو سے یہاں نکاح صرف ایجاب و قبول کے معنی میں نہیں ہے بلکہ وطی (ہم بستری) کے معنی میں ہے ، اس لیے [1] البقرۃ 2: 230۔