کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 98
میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا، پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس پر اس کی مثل گناہ کا بوجھ پڑے گا جس نے اس پر عمل کیا، ان کے بوجھوں میں سے کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘[1] اس حدیث سے ان کے استدلال کی بنیادسَنَّ کا لفظ ہے جو اختراع (ایجاد کرنے) کے معنی میں آتا ہے۔ و ہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اچھے طریقے کی ایجاد کو اجرو ثواب کا باعث قرار دیا گیا ہے لیکن یہ استدلال متعدد وجوہ سے غلط ہے۔ قرآن کریم یا حدیث کے کسی ایک لفظ سے ان کے محض لغوی معنی کی بنیاد پر استدلال گمراہانہ اور اہل باطل کا طریقہ ہے ۔ اس کے برعکس اہل سنت والجماعت کا طریق استدلال مجموعی تعلیمات کی روشنی میں آیت یا حدیث کا مفہوم سمجھنا ہے ۔ اس کے لیے اگر کسی جگہ لغوی مفہوم سے انحراف بھی کرنا پڑے ، یا اس کے کئی معنوں میں سے ایک معنی لینا پڑے تو ایسا ہی کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح کسی آیت یا حدیث سے ایسا استدلال جو دوسری کسی آیت یا حدیث سے متصادم ہو ، یہ بھی اہل باطل کا طریقہ ہے، اہل سنت یہ بھی نہیں کرتے بلکہ ایسا مفہوم مراد لیتے ہیں جو دوسری آیت یا حدیث کے ظاہری ٹکراؤ کو ختم کردیتا ہے ۔ اس کی متعدد مثالیں ہیں لیکن یہاں ہم بات کو سمجھانے کے لیے ایک آیت اور ایک حدیث کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں طلاق کا مسئلہ بیان ہوا ہے: (الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ)[2] یعنی جس طلاق میں رجوع ہو سکتا ہے ، وہ دو مرتبہ ہے ۔ اب اگر کوئی شخص مختلف اوقات میں دو مرتبہ طلاق دے کر رجوع کر چکا ہو اور پھر تیسری مرتبہ طلاق دے دے [1] صحیح مسلم، العلم، باب من سن…، حدیث: 1017، بعد الحدیث: 2673۔ [2] البقرۃ 229:2۔