کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 97
اسی بات کو ایک حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے: ’إِنَّ اللّٰہَ حَجَبَ (حَجَزَ) التَّوْبَۃَ عَنْ کُلِّ صَاحِبِ بِدْعَۃٍ‘ ’’ہر بدعتی کے لیے اللہ نے توبہ کا دروازہ بند کردیا ہے۔‘‘[1] بہرحال حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے زیر بحث قول میں ’’المسلمون‘‘ سے مراد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، یعنی ان کا کسی دینی امر میں اجماع و اتفاق ایسا ہے کہ وہ دین میں حجت ہے، یا پھر اس اثر میں اس عمل کی حجیت کی طرف اشارہ ہے جس کی بابت قرآن و حدیث میں کوئی نص وارد نہیں، نیز شریعت کی کسی اصل سے بھی وہ متصادم نہیں، عبادات سے بھی اس کا کوئی تعلق نہیں اور عقل سلیم بھی اس کو قبول کرلے تو ایسا عمل مستحسن ہوسکتا ہے۔ (2)مَنْ سَنَّ فِي الإِْسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً… سے استدلال؟ اہل بدعت، بدعات سازی کے جواز میں اس حدیث سے بھی استدلال کرتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ لَہٗ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا، وَلَا یُنْقَصُ مِنْ أُجُورِھِمْ شَيْ ئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي اْلإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً، فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ، کُتِبَ عَلَیْہِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَا یُنْقَصُ مِنْ أَوْزَارِھِمْ شَيْ ئٌ‘ ’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا، پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کو اس شخص کی مثل اجر ملے گا جس نے اس پر عمل کیا، ان کے اجر [1] المعجم الأوسط للطبراني: 113/5، حدیث: 4214، والسلسلۃ الصحیحۃ: 154/4، حدیث: 1620۔