کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 96
اسی لیے ایک جلیل القدر تابعی کا قول ہے: ’مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَۃً فِي دِینِھِمْ إِلَّا نُزِعَ مِنْ سُنَّتِھِمْ مِثْلُھَا‘ ’’جو قوم بھی اپنے دین میں کوئی بدعت ایجاد کرتی ہے تو اس کی مثل اس سے ان کی سنت چھین لی جاتی ہے۔‘‘[1] یعنی اصل اہمیت سنت کے بجائے بدعت کی ہوجاتی ہے، اس لیے سنت پر عمل تو متروک ہوجاتا ہے لیکن بدعت پر عمل نہایت سختی اور پابندی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہی بات حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی سے بھی منقول ہے، فرماتے ہیں: ’مَا مِنْ عَامٍ إِلَّا تَظْھَرُ فِیہِ بِدْعَۃٌ وَتَمُوتُ فِیہِ سُنَّۃٌ حَتّٰی تَظْھَرَ الْبِدَعُ وَتَمُوتَ السُّنَنُ‘ ’’کوئی سال ایسا نہیں ہے کہ جس میں بدعت ظاہر اور سنت فوت نہ ہو، یہاں تک کہ بدعات کا غلبہ ہوا جاتا ہے اور سنتیں ناپید ہوئی جاتی ہیں۔‘‘[2] اس کا مطلب بھی وہی ہے کہ جہاں بھی بدعات کا ظہور ہوتا ہے تو سنتیں وہاں سے مفقود ہوجاتی ہیں، اسی لیے شیطان کو بدعت، معصیت سے زیادہ پسند ہے جیسا کہ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: ’اَلْبِدْعَۃُ أَحَبُّ إِلٰی إِبْلِیسَ مِنَ الْمَعْصِیَۃِ، اَلْمَعْصِیَۃُ یُتَابُ مِنْھَا وَالْبِدْعَۃُ لَا یُتَابُ مِنْھَا‘ ’’بدعت، شیطان کو معصیت سے زیادہ محبوب ہے کیونکہ معصیت سے توبہ کا امکان رہتا ہے جبکہ بدعت سے توبہ کرنے کا احساس ہی پیدا نہیں ہوتا ۔‘‘[3] [1] سنن الدارمي: 44/1۔ [2] کتاب الحوادث والبدع، ص: 4۔ [3] مسند ابن الجعد، فقرہ: 1809۔