کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 93
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس طرح) فرمایا ہے اور تم (اس کے مقابلے میں) کہتے ہو: ابوبکر و عمر نے (اس طرح) کہا۔‘‘[1] تیسری وجہ اجماعِ صحابہ کے حجت ہونے کی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ہیں، جن میں آپ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی اقتداکرنے کاحکم دیا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور چوتھی وجہ اللہ تعالیٰ کا صحابہ کے ایمان کو معیارِ ایمان قرار دینا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: (فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ)[2] (آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ)[3] دورِ خیر القرون کے بعد کے مسلمان ان خوبیوں سے محروم ہوگئے جن کی وجہ سے صحابہ کو ایک خاص شرف و امتیاز اور درجۂ فضیلت حاصل ہوا، رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوا عَنْہُ ۔ بنا بریں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہی کا دور تاریخ اسلام کا وہ سنہری دور ہے جس کے اجماع کو حجتِ شرعیہ اوراس سے انحراف کو کفر و ضلالت قرار دیا جاسکتا ہے اورایسا کہنا دلائل شرعیہ کے عین مطابق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿١١٥﴾) ’’ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتا اور مومنوں کا راستہ چھوڑ کر کسی اور کی پیروی کرتا ہے تو ہم اس کو اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرتا ہے اوراسے جہنم میں داخل کریں گے اور یہ بہت برا ٹھکانا ہے۔‘‘[4] [1] إعلام الموقعین: 539/3 بہ تحقیق أبي عبیرۃ، دار ابن الجوزي [2] البقرۃ 137:2۔ [3] البقرۃ 13:2۔ [4] النسآء 115:4۔