کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 88
کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، جیسے بعض امور ایسے ہیں جن کی بابت صراحتاً کوئی نص نہیں ہے لیکن ان کے جواز و استحباب پر اشارتاً یا اقتضاءً کوئی نہ کوئی اصل دلالت کرتی ہے (اس کی تفصیل آگے آئے گی) وہ چونکہ شریعت کے موافق ہی ہے، اس لیے ان امور کو کوئی بھی بدعت حسنہ قرار نہیں دیتا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ مُحْدَث فی الدِّین عمل کو بدعت حسنہ قرار دینے کی بنیاد عقل ہے تو عقلیں تو مختلف ہوتی ہیں، کس کی عقل کو معیار اور کسوٹی قراردیا جائے گا؟ بعض حضرات کی عقل نے عزاو ماتم کی جو صورتیں ایجاد کی ہیں، جن کی وہ فرائض اسلام سے بھی زیادہ پابندی کرتے ہیں،اہل سنت کی عقل ان کو صحیح تسلیم نہیں کرتی، اسی طرح بعض حضرات نے ’’جشن میلاد‘‘ کی جو صورتیں اختیار کی ہیں، دوسرے اہل اسلام کی عقل ان کو صحیح تسلیم نہیں کرتی۔ وعلٰی ھذا القیاس۔ بہت سے خود ساختہ طریقے اوراعمال ہیں جن پر تمام عقلیں متفق نہیں ہو سکتیں، اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اگر دین کی بنیاد عقل، رائے اور قیاس پر ہوتی تو جرابوں پر اوپر مسح کرنے کے بجائے جرابوں کے نچلے حصے پر مسح کیا جاتا۔[1] لیکن مشروع اوپر والے حصے پر مسح کرنا ہے (حالانکہ گندگی نچلے حصے میں لگتی ہے۔) اس سے معلوم ہوا کہ دین میں عقل بھی بنیاد نہیں بن سکتی،اس لیے کہ ہر موجد اور مبتدع کو اپنی گھڑی ہوئی چیز عقلی طورپر اچھی لگتی ہے، اسی لیے وہ اپنی خانہ ساز چیزوں کو بعض دفعہ وجوب و استحباب کا، ورنہ پھر بدعت حسنہ کادرجہ تو ضرور ہی دیتا ہے جبکہ دوسرے اہل اسلام ان کی بدعات سے بجا طورپر اختلاف کرتے ہیں۔ خامساً: بدعت حسنہ کے نام پر دین میں اضافہ کرنا جائز ہے تو کیا کسی اور اچھے سے [1] سنن أبي داود، الطھارۃ، باب کیف المسح؟ حدیث: 162۔