کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 86
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ‘ ’’ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ اس میں آپ نے کوئی استثنا نہیں فرمایا۔ آپ نے بہ تکرار اور بہ کثرت یہ اصول اور کلیہ بیان فرمایا لیکن ایک موقع پر بھی ایسا ارشاد نہیں فرمایا جس سے یہ معلوم ہوتا ہوکہ کسی امتی کا نو ایجاد عمل اچھا بھی ہوسکتا ہے۔ آپ بلا استثنا یہی فرماتے رہے: ’’ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ آپ کے اس فرمان کے بعد بدعت ایجاد کرنے والے بہ زعم خویش اپنی بدعت کو کتنا بھی اچھا سمجھیں، اس کے کتنے بھی فوائد وفضائل بیان کریں اوراس پر کیسا ہی خوش نما اور دل فریب لیبل لگائیں لیکن اس پر عمل گمراہی ہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے برعکس اس میں اجرو ثواب نہیں ہو گا، اس لیے کہ اجرو ثواب تب ہوگا جب وہ عمل عند اللہ مقبول ہوگا اور وہ عمل جواللہ نے اوراللہ کے رسول نے نہیں بتلایا، وہ مقبول کس طرح ہو سکتا ہے؟ فرمان گرامی ہے: ’مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ‘ ’’جس نے ایسا عمل کیا جس کی بابت ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔‘‘[1] دوسری روایت کے الفاظ ہیں: ’مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا ھٰذَا مَالَیْسَ فِیہِ فَھُوَرَدٌّ‘ ’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسا نیا کام ایجاد کیا جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردودہے۔‘‘[2] ثانیاً: جتنے بھی اہل بدعت ہوگزرے ہیں یا اب ہیں، سب اپنی اپنی ایجاد کردہ [1] صحیح مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام الباطلۃ وردّ محدثات الأمور، حدیث: 1718۔ [2] صحیح البخاري، الصلح، باب إذا اصطلحوا علی صلح جورٍ…، حدیث:2697، وصحیح مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام الباطلۃ…، حدیث: 1718۔