کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 85
میرے پاس سے گزرے گا، اس کا پانی پیے گا اورجو پی لے گا، کبھی اس کو پیاس تنگ نہیں کرے گی، وہاں کچھ لوگ میرے پاس آرہے ہوں گے جنھیں میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، پھر (ان کو روک دیا جائے گا اور)میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے گی۔ ‘‘ یہ کون لوگ ہوں گے؟ اس کی صراحت بھی دوسری حدیث میں ہے۔ جب ان کو روک دیا جائے گا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں فرشتوں سے کہوں گا: ’إِنَّھُمْ مِّنِّي، فَیُقَالُ: إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَیَّرَ بَعْدِي‘ ’’یہ تو میرے ہی (امتی معلوم ہوتے) ہیں تو کہا جائے گا: (بلاشبہ یہ آپ ہی کے نام لیوا ہیں لیکن) آپ کو معلوم نہیں کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں دین میں ایجاد کر لی تھیں؟ (یہ سن کر) میں کہوں گا: دوری ہو، دُوری ہو،ان لوگوں کے لیے جنھوں نے میرے بعد دین میں تبدیلیاں کردیں۔‘‘[1] اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بدعت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ قیامت کی رسوائی اورذلت سے محفوظ رہے اور حوضِ کوثر کے آبِ زلال سے بھی محروم نہ رہے۔ کوئی بدعت، بدعتِ حسنہ نہیں ہوسکتی اہل بدعت، بدعت کاجواز یہ کہہ کرنکالتے ہیں کہ ہماری ایجاد کردہ بدعت کے یہ یہ فائدے ہیں، اس لیے یہ بدعت، بدعت ضلالہ نہیں بلکہ بدعت حسنہ ہے، حالانکہ اولاً [1] صحیح البخاري، الرقاق، باب في الحوض، حدیث: 6584,6583، وصحیح مسلم، الفضائل، باب إثبات حوض نبینا صلي اللّٰه عليه وسلم ، حدیث: 2291,2290۔