کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 82
’أُصُولُ السُّنَّۃِ عِنْدَنَا التَّمَسُّکُ بِمَا کَانَ عَلَیْہِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم وَالْاِقْتِدَائُ بِھِمْ، وَتَرْکُ الْبِدَعِ، وَکُلُّ بِدْعَۃٍ فَھِي ضَلَالَۃٌ‘ ’’ہمارے نزدیک اصول سنت یہ ہے کہ اصحابِ رسول کے طریقے کو مضبوطی سے پکڑا جائے اورانھی کی اقتدا کی جائے اور بدعتوں کو چھوڑ دیا جائے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘[1] بدعت کی ہلاکت خیزیاں گزشتہ مباحث سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بدعت بہت ہی خطرناک چیز ہے۔ یہ صرف ایک جرم، ایک گناہ اور ایک معصیت ہی نہیں بلکہ یہ متعدد گناہوں اور جرموں کا مجموعہ ہے۔ ذرا ایک نظر ان جرموں کو دیکھیں اور پھر غور کریں، شاید یہ غوروفکر آپ کی زندگی میں انقلاب پیدا کردے اور صراط مستقیم کی سمجھ اللہ تعالیٰ آپ کو عطا فرما دے۔ اللہ تعالیٰ ہر قلب مسلم میں یہ تڑپ پیدا فرما دے کہ وہ جہنم والے راستے سے بچے اور جنت کا راستہ اختیار کرے۔ غوروفکر کے یہ پہلو حسبِ ذیل ہیں: 1 اللہ تعالیٰ نے جب قرآن مجید میں تکمیل دین اور اتمامِ نعمت کا اعلان فرما دیا ہے تو اس کے بعد اللہ پر ایمان رکھنے والوں کا کام کیا ہے؟ اس کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کا یا اللہ کے اس فرمانِ تکمیل کو جھٹلا کر اپنی طرف سے دین میں اضافہ کرنے کا؟ 2 اللہ تعالیٰ بھولنے والا نہیں(وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا ﴿٦٤﴾)[2]جس کا مطلب یہ ہے کہ دین میں جو جو باتیں ضروری تھیں، اللہ نے وہ سب خود یا اپنے پیغمبر کے ذریعے [1] شرح أصول اعتقاد أھل النسۃ للالکائي: 156/2۔ [2] مریم 64:19۔