کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 81
نبوی اور قبر رسول سے احرام باندھوں۔ آپ نے فرمایا: ایسا نہ کر، مجھے اندیشہ ہے کہ تو فتنے میں پڑ جائے گا۔ اس نے کہا: اس میں فتنے والی بات کون سی ہے، یہ چند میل ہی کا تو فاصلہ ہے جو میں زیادہ کروں گا؟ آپ نے فرمایا: ’وَأَيُّ فِتْنَۃٍ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ تَرٰی أَنْ سَبَقْتَ إِلٰی فَضِیلَۃٍ قَصَّرَعَنْھَا رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ؟ إِنِّي سَمِعْتُ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُولُ: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٦٣﴾ ’’اس سے بڑا فتنہ اور کیا ہو گا کہ تو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) پیش قدمی کرتے ہوئے مسجد نبوی سے احرام باندھنے کو فضیلت والا عمل سمجھ رہا ہے (جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا، گویا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فضیلت کے حاصل کرنے میں (نعوذ باللہ) کوتاہی کی؟ میں نے تو اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ان لوگوں کو جو اس (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان کو کوئی فتنہ (بڑی آزمائش) نہ آلے یا کسی درد ناک عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں۔‘‘[1] اسی لیے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے بجا طور پر فرمایا: ’مَنِ اسْتَحْسَنَ فَقَدْ شَرَعَ‘ ’’جس نے بدعت ایجاد کر کے اس کو اچھا سمجھا(اسے بدعت حسنہ قرار دیا) تو اس نے شریعت سازی کا ارتکاب کیا۔‘‘ جو اللہ کا حق ہے۔[2] امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: [1] النور 63:24۔ الاعتصام للشاطبي: 534/2۔ [2] الإحکام في أصول الأحکام للآمدي: 209/4۔