کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 80
اسلاف اورائمہ کا طرز عمل ان صحابۂ کرام کے پیرو کاروں کو بھی یہ عظیم مقام کیوں حاصل ہوا؟ اسی جذبۂ اتباع اور نفورِ ابتداع کی وجہ سے جو صحابۂ کرام کا طرۂ امتیاز اور وجہ افتخار تھا۔ اس کی بھی ایک دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ طلوعِ فجر کے بعد (سنت نبوی کے مطابق دو سنتوں پر کفایت کرنے کے بجائے) دو رکعتوں سے زیادہ پڑھتا ہے اوران میں رکوع سجود بھی بہت کرتا ہے۔ سعید بن مسیب نے اس کو اس سے منع کیا تو اس شخص نے کہا: اے ابو محمد! کیا اللہ مجھے نماز پڑھنے پر عذاب دے گا؟ آپ نے جواب دیا: ’لَا، وَلٰکِنْ یُّعَذِّبُکَ عَلٰی خِلَافِ السُّنَّۃِ‘ ’’اللہ تجھے نماز پڑھنے پر عذاب نہیں دے گا، سنت کے خلاف پڑھنے پر عذاب دے گا۔‘‘[1] امام مالک رحمۃ اللہ علیہ جن کا یہ قول پہلے گزر چکا ہے کہ جس نے بدعت ایجاد کی اور اسے بدعت حسنہ سمجھا، اس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے (نعوذ باللہ) حق رسالت کی ادائیگی میں خیانت کا ارتکاب کیا۔[2] ان کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا: اے ابو عبداللہ! میں احرام کہاں سے باندھوں؟ آپ نے جواب دیا: ذوالحلیفہ سے (جو اہل مدینہ کی میقات ہے) جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تھا۔ اس نے کہا: میں تو چاہتا ہوں کہ میں مسجد [1] السنن الکبرٰی للبیھقي: 466/2۔ [2] الاعتصام للشاطبي: 65/1۔