کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 79
تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’لَقَدْ صَنَعَھَا رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حج تمتع کیا ہے (اس کے بعد کسی اور کی بات دیکھنے سننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔)‘‘[1] ٭ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جو رکوع سجود اطمینان سے نہیں کررہا تھا تو حضرت حذیفہ نے اس سے فرمایا: ’مَا صَلَّیْتَ، وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلٰی غَیْرِ الْفِطْرَۃِ الَّتِي فَطَرَ اللّٰہُ مُحَمَّدًا صلي اللّٰه عليه وسلم ‘ ’’تو نے نماز ہی نہیں پڑھی اوراگر تجھے اس طرح نماز پڑھتے ہوئے موت آگئی تو تو اس فطرت پر نہیں مرے گا جس پر اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا ہے۔‘‘[2] ان واقعات سے بھی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اس جذبۂ اتباعِ رسول اور منہج صحیح کا پتا چلتا ہے جس میں ابتداع (بدعت سازی) کا دور دور تک شائبہ نہیں اور جس کی وجہ ہی سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کو دوسرے لوگوں کے لیے معیار اور کسوٹی قرار دیا: (آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ)[3]( فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ)[4] نیز ان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والوں کو بھی انھی کی طرح اپنی رضامندی کا سر ٹیفکیٹ اور جنت کی خوشخبری سے نوازا۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْھُمْ۔ [1] جامع الترمذي، الحج، باب ماجاء في الجمع بین الحج والعمرۃ، حدیث: 824۔ [2] صحیح البخاري، الأذان، باب إذا لم یتم الرکوع، حدیث: 791۔ [3] البقرۃ 13:2۔ [4] البقرۃ 137:2۔