کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 74
یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام کے دور میں تقربِ الٰہی کے حصول کے لیے مذکورہ خود ساختہ طریقوں کا نام و نشان نہیں ملتا کیونکہ وہ شریعت کی روح اور حقیقت کو سمجھتے تھے، اس لیے ان کا یقین تھا کہ اجرو ثواب صرف اتباع رسول میں ہے، رضائے الٰہی صرف اسوئہ حسنہ کی پیروی میں ہے اور نجات و سعادت ابدی صرف اور صرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے میں ہے اور اس سے انحراف میں ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’اِتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ کُفِیتُمْ وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ‘ ’’پیروی کرو اور بدعتیں نہ گھڑو (ان کی تمھیں ضرورت نہیں)، اس لیے کہ تمھیں جو بتلایا گیا ہے، وہ تمھارے لیے کافی ہے۔ اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘[1] صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل صحابۂ کرام کا عمل بھی اس کے مطابق تھا، اس کی ایک بہترین مثال وہ واقعہ ہے جو سنن دارمی میں موجود ہے کہ کچھ لوگ مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے اجتماعی ذکرِ جہر کررہے تھے، ان کے ہاتھوں میں کنکریاں تھیں، ان میں سے ایک شخص کہتا: سو مرتبہ اللّٰہ أکبرکہو، وہ سو مرتبہ اللّٰہ أکبر کہتے، پھر وہ کہتا: سو مرتبہ لا إلہ إلا اللّٰہ کہو، وہ سو مرتبہ یہ کلمہ کہتے، پھر وہ کہتا: سو مرتبہ سبحان اللّٰہ کہو، وہ سو مرتبہ سبحان اللّٰہ کہتے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جا کر بتلایا اور کہا: میں نے ابھی مسجد میں ایک (نیا) کام دیکھا ہے جو مجھے عجیب تو لگا ہے لیکن [1] سنن الدارمي: 49/1۔