کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 72
یہاں اس کا استعمال مدح اور تعریف کے مفہوم میں ہے۔ لیکن بدعت کا لفظ جب شرعی اصطلاح کے طور پر استعمال ہو گا تو وہ ذم ہی کے معنی میں ہو گا، اس میں مدح کا پہلو قطعاً نہیں ہو گا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا ہے: ’کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ‘ ’’ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ تو گمراہی میں حسن اور خیر کا پہلو ہرگز نہیں ہو سکتا، چاہے اس کے ایجاد کرنے والوں کے نزدیک اس میں کتنا بھی حسن ہو۔ شریعت کی رو سے اس میں قطعاً حسن نہیں، ذَمّ ہی ذَمّ ہے۔ شرعی اصطلاح میں بدعت کا مفہوم بنا بریں ضروری ہے کہ بدعت کا شرعی مفہوم بھی واضح کیا جائے۔ علامہ شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: ’اَلْبِدْعَۃُ: طَرِیقَۃٌ فِي الدِّینِ مُخْتَرَعَۃٌ، تُضَاھِي الشَّرْعِیَّۃَ، یُقْصَدُ بِالسُّلُوکِ عَلَیْھَا مَا یُقْصَدُ بِالطَّرِیقَۃِ الشَّرْعِیَّۃِ‘ ’’دین میں وہ خود ساختہ طریقہ جو (ظاہر میں) شریعت کے مشابہہ ہو، اس من گھڑت راستے کے اختیار کرنے سے وہی (اجرو ثواب) مقصود ہو جو شرعی طریقے پر چلنے سے مقصود ہوتا ہے۔‘‘[1] ’’دین میں خود ساختہ طریقے‘‘ کی قید سے وہ ایجادات نکل گئیں جو تمدنی اور معاشرتی سہولتوں کے لیے ایجاد ہوئی ہیں، ہو رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی، جیسے ریل گاڑیاں، کاریں، بسیں، ہوائی جہاز، اے سی وغیرہ بے شمار اشیاء کیونکہ ان کے [1] الاعتصام للشاطبي: 51/1، طبع: 1992ء ۔