کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 71
(وَأَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ۔۔۔) … الآیۃ} ’’اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان واطلاع ہے…۔‘‘[1] وَعَلٰی ھٰذَا الْقِیاس اس طرح اور بہت سے الفاظ ہیں۔ بدعت کے لغوی معنی اسی طرح بدعت کے لغوی معنی انوکھی چیز کے ہیں، یعنی ایسی چیز جس کی کوئی نظیر یا مثال پہلے نہ ہو، جیسے قرآن مجید میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے: (قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ) ’’کہہ دیجیے! میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں۔‘‘[2] یعنی بغیر کسی سابق مثال کے میں نیا رسول نہیں آیا ہوں بلکہ مجھ سے پہلے بھی متعدد رسول ہو گزرے ہیں۔ اللہ کی صفت بدیع (جس کا مادہ بدعت ہی ہے) اسی مفہوم کی حامل ہے: (بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) ’’وہ آسمانوں اور زمین کو انوکھے انداز سے بنانے والا ہے۔‘‘[3] یعنی ایسے انداز سے جس کی کوئی مثال پہلے نہیں ملتی۔ اس لغوی معنی میں اس لفظ بدعت کا اطلاق اچھی اور بری دونوں چیزوں پر ہوتا ہے۔ اس میں ذم کا پہلو بھی ہو سکتا ہے اور مدح کا بھی کیونکہ اس کامطلب صرف اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ انوکھی اور بے مثال چیز ہے قطع نظر اس کے کہ یہ اچھی ہے یا بری، جیسے کوئی بہت ہی عمدہ چیز ہو اور جس میں ندرت بھی ہو تو عربی میں کہتے ہیں: مَا ھُوَ إِلَّا بِدْعَۃٌ یہ تو بہت ہی انوکھی چیز ہے۔ [1] التوبۃ 3:9۔ [2] الأحقاف 9:46۔ [3] البقرۃ 117:2۔