کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 70
بدعت، تعریف اور حدودِ اطلاق گزشتہ سارے مباحث اور آئندہ صفحات میں مختلف مہینوں میں رائج رسومات پر بحث کا مرکز و محور چونکہ بدعت ہے، اس لیے ضروری ہے کہ بدعت کی تعریف بھی بیان کی جائے کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اسی طرح یہ بھی واضح کیا جائے کہ اس کی حدود کہاں تک ہیں، یعنی بدعت کا اطلاق کن کن چیزوں پر ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے یا بہ الفاظ دیگر کون کون سے رائج اعمال اس کے دائرے میں آتے ہیں؟ بدعت کی تعریف بدعت عربی زبان کا لفظ ہے، اس لیے اس کے ایک معنی تو لغوی ہیں، یعنی لغت کے اعتبار سے عربی میں بدعت کسے کہتے ہیں؟ اور یہ شرعی اصطلاح بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ لفظ استعمال فرمایا ہے تو شرعی اعتبار سے اس کے معنی و مفہوم کیا ہوں گے ؟ جیسے اور بھی کئی الفاظ ہیں کہ لغوی اعتبار سے ان کے معنی و مفہوم اور ہیں یا کئی معانی ہیں لیکن شرعی اصطلاح میں ان کا اطلاق صرف ان چیزوں پر ہوتا ہے جس معنی کے لیے شارع یا شارح علیہ السلام نے اس کو متعین کردیا ہے، جیسے دعا کا لفظ ہے، اس کے لغوی معنی تو پکارنے کے ہیں لیکن اصطلاح شرعی میں یہ لفظ استمداد و استغاثے، بارگاہِ الٰہی میں التجا و التماس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اَذان کے لغوی معنی اطلاع دینے کے ہیں اور اس لغوی معنی میں بھی اس کااستعمال ہے۔