کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 68
اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کا پابند ہے اور اس کی نجات کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی کافی ہے، وہ اَوَامر (احکامات) کو بجا لائے اور نَوَاہی (ممنوعات) سے باز رہے۔ سُنَّتِ ترکیہ، جو کام منقول نہیں ان کا نہ کرنا سنت اور کرنا خلافِ سنت ہے ایک تیسری قسم ان کاموں کی ہے جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا لیکن لوگ ان کو دین یا اجرو ثواب کا باعث گردان کر کرتے ہیں۔ ان کا کیا حکم ہے؟ ظاہر بات ہے کہ ان کا نہ کرنا ہی سنت اور کرنا خلافِ سنت ہے کیونکہ یہ سُنَّتِ ترکیہ ہے۔ جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا،اس کا نہ کرنا ہی سنت ہو گا۔ اس کی دو صورتیں ہیں: ایک وہ جن کے نہ کرنے کی صراحت احادیث میں موجود ہے، جیسے جمع بین الصلاتین کے موقع پر آپ کا سنتیں ادا نہ کرنا اور صرف دونوں نمازوں کے فرض ادا کرنا۔ عیدین کی نماز کے لیے اذان اور اقامت (تکبیر) کااہتمام نہ کرنا، وغیرہ۔ ان کے نہ کرنے کی صراحت احادیث میں موجود ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ نہ کرنے کی صراحت تو نہیں ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام نہیں کیا، اس لیے کہ اگر وہ کام آپ نے کیا ہوتا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم یا ان میں سے کوئی ایک تو ضرور اس کو بیان کرتا، یا اس کام کا اہتمام صحابہ بھی ضرور کرتے۔ جب کسی سے اس کا کرنا بھی منقول نہیں اور صحابہ کا کرنا بھی ثابت نہیں تو بالیقین اس کام کا نہ کرنا ہی سنت ہے، جیسے مردے کو دفنانے کے بعد قبر پر اذان دینا، فرض نماز پڑھتے وقت اردو یا پنجابی وغیرہ زبان میں نیت کے الفاظ زبان سے ادا کرنا، اذان سے قبل صلاۃ و سلام پڑھنا، جماعت کا سلام پھرنے کے فورًا بعد اجتماعی طور پر