کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 67
مَا یَعْلَمُہُ لَھُمْ، وَیُنْذِرَھُمْ شَرَّمَا یَعْلَمُہُ لَھُمْ‘ ’’مجھ سے پہلے جو بھی نبی ہوا ہے، اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی امت کو ہر بھلائی کی وہ بات بتلائے جس کا امت کے لیے بہتر ہونا اس کو معلوم ہو اور ان چیزوں سے ان کو ڈرائے جن کا ان کے لیے برا ہونا اس کو معلوم ہو۔‘‘[1] اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ خیرو شر کا یہ علم پیغمبر کو اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے، نیز پیغمبر اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ اس کو اللہ کی طرف سے لوگوں کو بتلانے کے لیے جو کچھ بتلایا جائے، وہ اپنی امت کو بتلا دے، کوئی بات اپنے پاس نہ رکھے۔ قرآن کریم کی اس آیت کا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت ہے، یہی مطلب ہے: (وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ ﴿٢٤﴾) ’’وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل نہیں ہے۔‘‘[2] کیونکہ پیغمبر کو یہی حکم ہوتا ہے: (بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ) ’’جو چیز آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتاری گئی ہے، وہ (لوگوں تک) پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔‘‘[3] ان آیات و احادیث سے معلوم ہوا کہ جن امور کا تعلق دین سے ہے، امر کا ہو یا نہی (ممانعت) کا، وہ سب بتلا دیے گئے ہیں۔ اب وحی و رسالت کا سلسلہ منقطع ہوجانے کے بعد کسی کو ان میں نہ کمی کرنے کااختیار ہے اور نہ زیادتی کا، امتی صرف [1] صحیح مسلم، الإمارۃ، باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلیفۃ، الأول فالأول، حدیث: 1844۔ [2] التکویر 24:81۔ [3] المآئدۃ 67:5۔