کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 64
گا اور وہ اللہ کے ڈر سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔‘‘[1] (يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا ﴿١٠٩﴾) ’’اس دن سفارش کوئی نفع نہ دے گی مگر صرف اس کی جسے رحمن اجازت دےگا اور اس کی بات پسند کرے گا۔‘‘[2] ان آیات سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ٭ شفاعت صرف وہ کرے گا جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ ٭ شفاعت صرف ان لوگوں کے حق میں ہو گی جن کی بابت اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا۔ اور ظاہر بات ہے کہ جو اللہ کے سخت نافرمان رہے ہوں گے، اسلام کے احکام و فرائض سے یکسر غافل رہ کر جنھوں نے زندگی گزاری ہو گی اور اللہ تعالیٰ پہلے ان کو سزا دے کر عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہے گا، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کب شفاعت کرنے کی اجازت دے گا؟ ان کو پہلے جہنم کی سزا بھگتنی ہو گی اور جب اللہ چاہے گا ان کو معاف فرما کر اور جہنم سے نکال کرجنت میں داخل فرمائے گا، چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری مرتبہ شفاعت سے ان کو جنت میں جانے کاموقع ملے گا۔ ان سارے پہلوؤں کی وضاحت احادیث میں موجود ہے۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امت محمدیہ کی بے عمل یا بدعمل اکثریت پہلے جہنم میں جانے کی مستحق قرار پاسکتی ہے، اس میں قطعاً کوئی اشکال یا استحالہ نہیں۔ اس طرح ایک بہت بڑی تعداد سزا بھگتنے کے بعد جنت میں جائے گی۔ اور جہنم میں صرف وہی لوگ ہمیشہ رہنے کے لیے رہ جائیں گے جن کے عقیدوں کی گمراہی نے ان کو شرک اکبر اور شرکِ صریح تک پہنچا دیا ہو گا اور دنیا میں وہ شرک [1] الأنبیآء 28:21۔ [2] طٰہٰ 109:20۔