کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 63
ان لوگوں کے مانند کر دیں گے جو ایمان لائے اورانھوں نے نیک عمل کیے، ان کا جینا اور مرنا برابر ہے؟ برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘[1] قرآن کریم کی رو سے ساری امتِ محمدیہ کی پہلے ہی مرحلے میں بخشش کا یہ تصور ’’برا فیصلہ‘‘ ہے، جو اللہ کے بارے میں تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ شفاعت کا صحیح مفہوم شفاعت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی وجہ سے امتِ محمدیہ کے ایسے بہت سے لوگوں کو معاف کر کے ان کو پہلے مرحلے ہی میں جنت میں بھیج دے گا جن پر اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم کرنا چاہے گا اور وہ زیادہ گناہ گار بھی نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ) ’’اللہ کی اجازت کے بغیر کون ہے جو اس کی بارگاہ میں شفاعت کر سکے؟‘‘[2] یعنی وہاں کسی کو کسی کے لیے شفاعت کرنے کی اجازت ہو گی نہ کسی کو یہ جرأت ہی ہو گی۔ ہاں جس کو اللہ تعالیٰ اجازت دے گا، وہ یقینا شفاعت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شفاعت کرنے کا یہ اعزاز عطا فرمائے گا اور آپ اللہ کی اجازت سے اپنی امت کی مغفرت کے لیے شفاعت فرمائیں گے۔ لیکن یہ شفاعت کن لوگوں کے لیے ہو گی؟ اس کی بھی وضاحت قرآن کریم میں فرما دی گئی ہے: (وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ ﴿٢٨﴾) ’’وہ شفاعت انھی لوگوں کے لیے کریں گے جن کے لیے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے [1] الجاثیۃ 21:45۔ [2] البقرۃ 255:2۔