کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 61
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’اَلْجَمَاعَۃُ مَا وَافَقَ الْحَقَّ، وَإِنْ کُنْتَ وَحْدَکَ‘ ’’حق کے مطابق چلنے والوں کا نام ’’الجماعۃ‘‘ ہے چاہے تو اکیلا ہی ہو۔‘‘[1] علامہ شاطبی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 790 ہجری) فرماتے ہیں: ’اَلْجَمَاعَۃُ مَاکَانَ عَلَیْہِ النَّبِيُّ صلي اللّٰه عليه وسلم ، وَأَصْحَابُہٗ، وَالتَّابِعُونَ لَھُمْ بِإِحْسَانٍ‘ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابۂ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کے طریقے کا نام الجماعۃ ہے۔‘‘[2] حضرت فُضَیْل بن عیاض فرماتے ہیں: ’اِلْزَمْ طُرُقَ الْھُدٰی، وَلَا یَضُرُّکَ قِلَّۃُ السَّالِکِینَ، وَإِیَّاکَ وَطُرُقَ الضَّلَالَۃِ، وَلَا تَغْتَرَّبِکَثْرَۃِ الْھَالِکِینَ‘ ’’ہدایت کے راستوں پر چلو، ان راستوں پر چلنے والوں کی کمی کو مت دیکھو، اس سے تمھیں کچھ نقصان نہیں ہو گا۔ اور گمراہی کے راستوں سے بچو، ان راستوں کو اختیار کرنے والوں کامقدر تباہی ہے، ان کی کثرت سے تم دھوکا مت کھاؤ۔‘‘[3] حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’اُسْلُکُوا سَبِیلَ الْحَقِّ، وَلَا تَسْتَوْحِشُوا مِنْ قِلَّۃِ أَھْلِہِ‘ ’’حق کے راستے پر چلو، اہل حق کی کمی سے مت گھبراؤ۔‘‘[4] [1] شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ للالکائي: 109/2۔ [2] الاعتصام: 37/1، بہ تحقیق سلیم بن عید الھلالي، طبع دارابن عفان: 1992ء ۔ [3] الأذکار للنووي: 374/1۔ [4] الاعتصام، للشاطبي: 46/1۔