کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 60
بڑی خوبی یہ ہو گی کہ وہ قرآن و حدیث کے علم سے بہرہ ور ہوں گے، اس میں ان کو رسوخ حاصل ہو گا اور وہ اس علم کے ماہر ہوں گے اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہے گا، ہر قرن اور ہر دور میں ایسے علمائے حق ہوتے رہیں گے۔ اور ان کا سب سے اہم کام یہ ہو گا کہ اہل بدعت اور اہل زیغ اپنی گمراہیوں اور بدعات کے اثبات کے لیے قرآن و حدیث کے معنی و مفہوم میں جو تحریف کریں گے، قرآن و حدیث کی طرف جو غلط باتیں منسوب کریں گے اور جو دور از کار تاویلات کریں گے، اہل حق ان سب کی نفی کرکے، ان کے مغالطات و تلبیسات کاپردہ چاک کر کے اور صحیح بات کو واضح کر کے قرآن وحدیث اور دین حق کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْھُمْ۔ اوردرج ذیل حدیث میں بھی یہی خبر دی گئی ہے۔ ’إِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہٖ الأُْمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِینَھَا‘ ’’اللہ تبارک و تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی کے شروع (یا آخر) میں ایسے لوگ پیدا فرماتا رہے گا جو اس امت کے لیے اس کے دین کی اصلاح و تجدید کا کام کیا کریں گے۔‘‘[1] یہی طائفۂ منصورہ، فرقۂ ناجیہ اور جماعتِ حقہ ہے جو اتباعِ رسول کے تقاضوں کو پورا کرنے والی اور صحابۂ کرام کے منہج و مسلک پر چلنے والی ہے۔ یہ بلاشبہ تھوڑی ہی ہے، تھوڑی ہی رہی ہے اور شاید تھوڑی ہی رہے لیکن اس کے تھوڑے ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یہ حق کی حامل نہیں ہے یا حق کے لیے اکثریت ضروری ہے۔ [1] سنن أبي داود، الملاحم، باب مایذکر في قرن المائۃ، حدیث: 4291، والسلسلۃ الصحیحۃ حدیث: 599۔