کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 59
لیکن ایک گروہ، جو تعداد میں تھوڑا ہو گا، ان سے نبرد آزما اور ان کی تاویلاتِ رکیکہ و بعیدہ و تلبیسات کا پردہ چاک کرتا رہے گا اور یوں اصل دین بھی اپنی صحیح صورت میں موجود رہے گا۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازنا ہو گا، وہ تقلیدی راہوں اور بدعات سے نکل کر اصل دین کو اپناتے رہیں گے اور یوں نام نہاد مسلمان معاشروں میں اصل دین پر عمل کرنے والے اور اس کی حفاظت و صیانت کا فریضہ ادا کرنے والے بھی تاقیامت موجود رہیں گے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’یَحْمِلُ ھٰذَا الْعِلْمَ مِنْ کُلِّ خَلْفٍ عَدُولُہُ، یَنْفُونَ عَنْہُ تَحْرِیفَ الْغَالِینَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِینَ وَتَأْوِیلَ الْجَاھِلِینَ‘ ’’اس علم (قرآن و حدیث) کو ہر پچھلے لوگوں سے (بعد میں آنے والے) ثقہ لوگ (علمائے راسخین) حاصل کریں گے، وہ اس (علم) سے وہ تحریفات دور کریں گے جو بدعتی لوگ حد سے تجاوز کر کے (غلو کر کے اپنی بدعات کے اثبات کے لیے اس میں) کریں گے۔ اور (قرآن و حدیث کی طرف اس) غلط انتساب کی نفی کریں گے جو اہل باطل (اپنے مذہب کی حمایت کے لیے) کریں گے اور (شریعت حقہ کے اصول و مناہج سے نا آشنا) جاہل لوگوں کی تاویلات کا پردہ چاک کریں گے۔‘‘[1] اس حدیث میں اہل حق کی صفاتِ حمیدہ کا بھی بیان ہے اور ان کے ذریعے سے تجدید و اصلاح کا جو کام سرانجام پائے گا، اس کی بھی وضاحت ہے۔ان کی سب سے [1] شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی سند کے بارے میں توقف کیا اور تحقیق کرنے کے ارادے کا اظہار کیا۔ (ہدایۃ الرواۃ: 163/1) اور شیخ کے تلمیذ رشید علامہ سلیم الہلالی نے اس کی تحقیق کر کے اس کو حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (البدعۃ وأثرھا السیّیء في الأمۃ، ص: 110، طبع اُردن: 2006)