کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 58
٭ اس اکثریت کے مقابلے میں ایک گروہ بھی ہمیشہ قائم رہے گا جو حق کے لیے لڑتا رہے گا، یعنی باطل اور گمراہ فرقوں کی تحریفات و تلبیسات کا پردہ چاک کرتا اور حق کی دعوت ان کو دیتا رہے گا۔ ٭ اس طائفۂ حقہ کے دلائل چونکہ قرآن و احادیثِ صحیحہ پر مبنی ہوں گے، اس لیے دلائل کی رو سے کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گا، اس اعتبار سے یہی گروہ قیامت تک غالب رہے گا۔ ٭ اللہ کا پسندیدہ گروہ یہی ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ دین کی صحیح سمجھ سے بہرہ ور فرمائے گا اور یہ اس گروہ پر اللہ کا بڑا احسان ہو گا۔ ٭ اس گروہ کی فہم صحیح اور دعوتِ حق کے ذریعے ہی سے یہ دین قیامت تک اپنی صحیح شکل میں موجود رہے گا کیونکہ ہر دور میں اس گروہ کو باقی رکھنے سے اصل مقصود یہی ہے۔ اس کی مزید تائید حسب ذیل حدیث سے ہوتی ہے: ’لَنْ یَّبْرَحَ ھٰذَا الدِّینُ قَائِمًا، یُقَاتِلُ عَلَیْہِ عِصَابَۃٌ مِّنَ الْمُسْلِمِینَ، حَتّٰی تَقُومَ السَّاعَۃُ‘ ’’یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، اس کے لیے مسلمانوں میں سے ایک گروہ لڑتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔‘‘[1] ’’یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا‘‘ کا مطلب یہی ہے کہ دین میں ملاوٹ کرنے والے، نئی نئی بدعات گھڑنے والے، قرآن کریم میں معنوی تحریفات کے ذریعے سے اپنی گمراہیوں کو ثابت کرنے والے بہت ہوں گے، ہر دور میں ہوں گے اور بہت زیادہ ہوں گے [1] صحیح مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلي اللّٰه عليه وسلم : لا تزال طائفۃ…، حدیث: 1922۔