کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 55
(وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ ﴿١٣﴾) ’’اور میرے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہیں۔‘‘[1] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: (وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّٰهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ﴿١١٦﴾) ’’اور اگر آپ اہل زمین کی اکثریت کی بات مانیں گے تو وہ لوگ آپ کو اللہ کے راستے سے ہٹا دیں گے۔ یہ اکثریت صرف ظن (گمان) کی پیروکار اور محض اٹکل پچو باتیں کرنے والی ہے۔‘‘[2] ایک اور مقام پر فرمایا:(وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ ﴿١٠٣﴾) ’’اور آپ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔‘‘[3] طُوبٰی لِلْغُرَبَاء والی حدیث کا ایک طریق اس طرح بھی ہے جو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’طُوبٰی لِلْغُرَبَائِ، قِیلَ: وَمَنِ الْغُرَبَائُ؟ یَارَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: نَاسٌ صَالِحُونَ قَلِیلٌ فِي نَاسٍ سُوئٍ کَثِیرٍ، مَنْ یَّعْصِیھِمْ أَکْثَرُ مِمَّنْ یُّطِیعُھُمْ‘ ’’غرباء کے لیے خوش خبری ہے‘‘ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! غرباء کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’نیک لوگ، جو بہت زیادہ برے لوگوں میں تھوڑے ہوں گے، ان کے پیچھے لگنے والوں کے مقابلے میں ان کی نافرمانی کرنے والے [1] سبا 13:34۔ [2] الأنعام 116:6۔ [3] یوسف 103:12۔