کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 53
اختیار ہو۔‘‘[1] مومنوں کا طرئہ امتیاز اور شیوئہ گفتار تو اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے: (إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللّٰهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٥١﴾ وَمَن يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿٥٢﴾) ’’بس مومنوں کی تو بات ہی یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کرے تو وہ کہتے ہیں: ہم نے سنا اور اطاعت کی اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس کا تقویٰ اختیار کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘[2] اور جو لوگ دعوائے ایمان کے باوجود اس کے برعکس رویہ اختیار کرتے ہیں، ان کی بابت اللہ نے فرمایا: (وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِّنْهُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَـٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ﴿٤٧﴾ وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللّٰهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم مُّعْرِضُونَ ﴿٤٨﴾) ’’اور وہ کہتے ہیں: ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت کی، پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فریق (اطاعت سے) پھر جاتا ہے اور وہ لوگ مومن ہی نہیں۔ اور جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کرے تو اچانک ان میں سے ایک فریق منہ موڑ لیتا ہے۔‘‘[3] [1] الأحزاب 36:33۔ [2] النور 52,51:24۔ [3] النور 48,47:24۔