کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 52
(4)تقلیدی رویے گمراہی کا ایک بڑا سبب تقلید بھی ہے جس کو اپنے طور پر فرض و واجب کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ مزید برآں اس تقلیدی رویے کی وجہ سے بہت سی صحیح احادیث کو ماننے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ صحتِ حدیث کے اعتراف کے باوجود محض تقلیدِ امام کے خود ساختہ نظریے کی وجہ سے حدیث رسول کو ٹھکرا دینا، کیا کسی مسلمان کا شیوہ ہو سکتا ہے؟ لیکن حدیثِ رسول کے ساتھ یہ استہزا و مذاق بھی صدیوں سے کیا جارہا ہے اور یہ کام دین ناآشنا عوام کالانعام کی طرف سے نہیں، اصحابِ جُبّہ و دستار، مدعیانِ زہدو تقویٰ اور وارثانِ منبر و محراب کی طرف سے کیا جارہا ہے اور کیا جاتا ہے۔ کیا اس شوخ چشمانہ جسارت کا قرآن کریم کی درج ذیل آیات کی روشنی میں کوئی جواز ہے؟ (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٦٥﴾) ’’آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے آپس کے اختلاف میں آپ کو حَکَم (ثالث) نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور اسے دل و جان سے تسلیم کر لیں۔‘‘[1] (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ) ’’اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے یہ لائق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو اس کے بعد ان کو اپنے معاملے میں کوئی [1] النسآء 65:4۔