کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 50
’’ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا تو میں تم سب سے جہنم کو ضرور بھردوں گا۔‘‘[1] شیطان اپنے داؤ پیچ میں کس طرح کامیاب رہا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کی بھی وضاحت فرما دی ہے: (وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٢٠﴾) ’’اور ابلیس نے ان کے متعلق اپنا خیال یقینا سچا کر دکھایا، چنانچہ مومنوں کی ایک تھوڑی سی جماعت کے سوا سب نے اسی کا اتباع کیا۔‘‘[2] شرک کو شرک کوئی نہیں سمجھتا، یہی شیطانی چال اور اس کا مکرو فریب ہے، وہ شرک کرواتا ہے لیکن اس پر خوب صورت اور حسین غلاف چڑھا کر یا دل فریب اور خوش نما ناموں کے ذریعے سے۔ کبھی اس کو اولیاء اللہ کی محبت باور کراتا ہے، کبھی اس کو وسیلے کا عنوان دے دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے جن کو تم مدد کے لیے پکارتے ہو، ان کو تو موت آتی ہی نہیں ہے۔ وہ صرف دنیا سے پردہ کر جاتے ہیں، اس لیے ان فوت شدہ لوگوں کو الوہی صفات کا حامل سمجھ لیا جاتا ہے اور بلا خوف و خطر کہا جاتا ہے: ٭… شہباز، کرے پرواز، جانے راز دلاں دے ٭… امام بری! امام بری! میری کھوٹی قسمت کرو ہری ٭…یا علی مولا! میری کشتی پار لگا دینا اور یہ نعرے بھی عام ہیں۔ یا علی مدد، یا رسول اللہ مدد، یا حسین مدد، یا صاحب الزمان أَدْرِکْنِي۔ لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہ! لَبَّیْکَ یَا حُسَیْن! [1] الأعراف 18:7۔ [2] سبا 20:34۔