کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 49
قبروں میں مدفون ان بزرگوں کو عالم الغیب، متصرف فی الامور، مشکل کشا، حاجت روا، دور اور نزدیک سے فریادیں سننے والا اور نافع و ضار سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ ساری صفتیں صرف اللہ کی ہیں، اللہ کے سوا کوئی مذکورہ صفات کا حامل نہیں۔ اور الوہی صفات میں مخلوق کو بھی شریک کرنا، اسی کا نام شرک ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے قرآن کریم کی صداقت واضح ہو جاتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان موجود ہے: (وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللّٰهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ ﴿١٠٦﴾) ’’اور اِن میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘[1] اور شیطان کا یہ قول بھی سامنے آجاتا ہے جو اس نے اللہ سے مخاطب ہو کر کہا اور جسے قرآن نے نقل کیا ہے: (فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿١٦﴾ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ ﴿١٧﴾) ’’پس اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں ان (لوگوں کو گمراہ کرنے) کے لیے تیرے سیدھے راستے پر ضرور بیٹھوں گا، پھر میں ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے ان کے پاس ضرور آئوں گا اور ان کے دائیں سے بھی اور بائیں سے بھی۔ اور تو (اے اللہ!) ان کی اکثریت کو شکر گزار نہیں پائے گا۔‘‘[2] اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا: (لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ ﴿١٨﴾) [1] یوسف 106:12۔ [2] الأعراف 17,16:7۔